.

لبنانی جماعتوں نےنئے انتخابی قانون کی وجہ سے خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا: سعد الحریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے کہا ہے کہ نئے انتخابی قانون کی وجہ سے سیاسی جماعتوں نے اتوار کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے دوران میں مختلف خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔

انھوں نے سوموار کو نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ان کی مستقبل تحریک کو مختلف چیلنجز کا سامنا تھا لیکن وہ جماعت کی پارلیمانی انتخابات میں کارکردگی سے مطمئن ہیں اور اس کو اس کی فتح گردانتے ہیں‘‘ ۔

انھوں نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ ان کی جماعت کو پارلیمان کی 128 میں سے 21 نشستیں حاصل ہونے کی توقع ہے۔اس جماعت کی اپنی مدت پوری کرنے والی سابقہ پارلیمان میں 33 نشستیں تھیں ۔

لبنان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے اتوار کی شب پولنگ کے خاتمے کے بعد جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 49 فی صد تک رہی ہے۔الیکشن کمیشن نے ابھی تک حتمی نتائج کا ا علان نہیں کیا ہے۔

سعد الحریر ی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’ آج ہمارے سامنے ایک نیا مرحلہ ہے اور ہمیں مختلف چیلنجز درپیش ہیں ۔ مستقبل تحریک کے سربراہ کی حیثیت سے میں سیاسی ، قومی اور معاشی سطح پر ان چیلنجز کا مقابلہ جاری رکھوں گا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر ہم اس ملک کی شکل وصورت تبدیل اور لبنانی عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہم سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا ۔ہم کمزور نہیں ہیں ، ہم بہت مضبوط ہیں لیکن اگر ہمیں کوئی فیصلہ کرنا ہے تو پھر ہمیں ہر کسی کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا ۔اس کے سوا کوئی چارہ نہیں اور تاریخ سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے‘‘۔

انھوں نے اپنےوالد لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری مرحوم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’وہ جب 1972ء میں یہاں آئے تھے تو انھوں نے ہر کسی کے ساتھ مل جل کر کام کیا تھا اور اس ملک کی تعمیر کی تھی ۔وہ ملک میں بجلی لائے ،اسی طرح انھوں نے تعمیر وترقی کے دوسرے کام کیے تھے‘‘۔