عراق : اربیل صوبے کی عمارت پر داعش کا حملہ ، متعدد افراد یرغمال
عراق کے شمالی شہر اربیل میں کرد سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ پیر کے روز شہر میں اربیل صوبے کی عمارت کو ایک اور مسلح شخص نے خود کش دھماکے کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی عمارت پر حملہ کرنے والے کئی مسلح افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی۔ اس حوالے سے ذمّے داران کا کہنا ہے کہ متعدد یرغمال اب بھی عمارت کے اندر موجود ہیں جس کی تیسری منزل پر مسلح افراد نے قبضہ کر رکھا ہے۔
سکیورٹی عہدے داران کے مطابق غالبا حملہ آوروں کا تعلق داعش تنظیم سے ہے۔
اس سے قبل اربیل کے نائب گورنر اور کرد سکیورٹی حکام نے بتایا تھا کہ پیر کی صبح 7:45 پر دو مسلح افراد صوبائی حکومت کی عمارت کی جانب بڑھے اور داخلی دروازے پر پہرے داروں پر فائرنگ کرتے ہوئے عمارت کی تیسری منزل پر جا پہنچے۔ حملہ آوروں نے عمارت کی کھڑکیوں سے کرد سکیورٹی فورسز پر بھی فائرنگ کی۔
العربیہ کے نمائندے کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تین ہے۔ تاہم ابھی تک حملہ آوروں اور یرغمال بنائے جانے والے افراد کی درست تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے عمارت کے اطراف کی سڑکوں کو خالی کرا لیا ہے اور عمارت کو محاصرے میں لے کر زمینی منزل میں داخل ہو چکی ہیں تا کہ مسلح افراد پر حملے کی تیاری کی جا سکے۔
ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
اربیل میں اس طرح کا حملہ نادر نوعیت کا ہے کیوں کہ اسے عراق میں امن و امان کے لحاظ سے سب سے زیادہ مستحکم شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
عراق میں بڑے پیمانے پر شکست کا منہ دیکھنے والی داعش تنظیم ماضی میں اربیل میں میں دھماکے کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ شدت پسند تنظیم نے گزشتہ برسوں میں کرد سکیورٹی فورسز اور کرد شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔