ترکی نواز شامی باغیوں نے بادل نخواستہ ادلب میں جنگ بندی کی ڈیل تسلیم کرلی
ترکی نواز شامی باغیوں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں روسی اور شامی فوج کے حملے اور خونریزی سے بچنے کے لیے بادل نخواستہ جنگ بندی کا سمجھوتا تسلیم کرلیا ہے۔یہ سمجھوتا ترکی اور روس کے درمیان گذشتہ ہفتے سوچی میں طے پایا تھا لیکن شامی باغیوں کے ایک چھوٹے گروپ نے اس کو مسترد کردیا ہے۔
ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں بالا دست قوت اور مختلف باغی گروپوں پر مشتمل ہیئت تحریرالشام نے اتوار تک اس سمجھوتے کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ القاعدہ سے ماضی میں وابستہ النصرۃ محاذ تحریر الشام کی قیادت کررہا ہے۔
باغیوں کے ایک اور اتحاد قومی محاذ آزادی ( نیشنل لبریشن فرنٹ ) نے ہفتے کی شب ایک بیان میں ادلب کے لیے ترکی اور روس کے درمیان گذشتہ سوموار کو طے شدہ سمجھوتے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ چوکس رہے گا۔
اس محاذ نے اعلان کیا کہ ’’ ہم اپنے اتحادی ملک ترکی کے ساتھ شہریوں کو جنگ کا ایندھن بننے سے روکنے کے لیے کوششوں میں مکمل تعاون کریں گے لیکن ہم روسیوں ، اسد رجیم اور ایرانیوں کی جانب سے کسی بھی دوغلے پن سے نمٹنے کے لیے چوکس رہیں گے‘‘۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’’ ہم اپنے ہتھیاروں کو نہیں پھینکیں گے اور روس اور ایران کی حمایت یافتہ صدر بشارالاسد کی فورسز کے مقابلے میں اپنی سرزمین یا اپنے انقلاب سے دستبردار نہیں ہوں گے‘‘۔
القاعدہ سے وابستہ ایک چھوٹے باغی گروپ حراس الدین نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں روس کے ساحلی سیاحتی مقام سوچی میں طے شدہ سمجھوتے کو مسترد کردیا ہے اور اس کو ایک سازش قرار دیا ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان طے شدہ سمجھوتے کے تحت ا دلب کے گرد ونواح میں 15 سے 20 کلومیٹر تک یو شکل کا ایک بفر زون قائم کیا جائے گا۔اس کے علاوہ مجوزہ غیر فوجی علاقے میں موجود تمام دھڑوں کو 10 اکتوبر تک اپنے بھاری ہتھیاروں کو حوالے کرنا ہوگا اور سخت گیر گروپوں کو وہاں سے 15 اکتوبر تک انخلا کرنا ہوگا۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق حراس الدین اور قومی محاذ آزادی دونوں ہی مجوزہ بفر علاقے میں موجود ہیں اور ہیئت تحریر الشام کا بھی وہاں غلبہ ہے اور اس کا ادلب کے نصف سے زیادہ حصے پر کنٹرول ہے۔
اس نے اس سمجھوتے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن اس کے لیڈر ابو محمد الجولانی نے اگست میں ادلب میں حزب ِاختلاف کے دھڑوں کو اپنے ہتھیاروں سے دستبرداری پر خبردار کیا تھا۔
واضح رہے کہ شام میں 2011ء سے جاری جنگ میں اب تک تین لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں در بدر ہو کر پڑوسی ممالک یا دوسرے دور دراز کے یورپی ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔