عراق : داعشیوں کی الحشد الشعبی ملیشیا میں شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنے کے بعد اب داعشی عناصر نے شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ اس بات کا انکشاف امریکی اخبار "فارن پالیسی" میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ جبری طور پر نکالے جانے والے داعشی اب الحشد الشعبی کے دروازے سے رضاکار بن کر لوٹ آئے ہیں۔ الحشد الشعبی میں شامل "بدر" تنظیم نے ان میں سے تیس ارکان کو اپنی صفوں میں شامل کیا ہے۔ اسی طرح "عصائب اہل الحق" گروپ نے بھی ایسے چالیس افراد کو اپنے پاس جگہ دی ہے جن میں بعض کمانڈر شامل ہیں۔

گویا کل کے جانی دشمن آج ہتھیار تھامے ساتھی بن چکے ہیں۔ مذکورہ پیش رفت کے حوالے سے اندیشے کی بات یہ ہے کہ عراق میں ایک بار پھر چار سال پرانا منظرنامہ دہرائے جانے کا امکان ہے۔ تاہم اس مرتبہ یہ پورے ملک کی سطح پر ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب الحشد الشعبی ملیشیا نے داعش تنظیم کے عناصر اور کمانڈروں کی اپنی صفوں میں شمولیت کی حقیقت واضح کی ہے۔

امریکی رپورٹ میں داعش کے دو کمانڈروں مطشر الترکی اور زید موالان کے الحشد الشعبی میں شامل ہونے کا انکشاف کیا۔ تاہم الحشد کے ایک رہ نما نے اس خبر کے درست ہونے کی نفی کی ہے۔ مذکورہ رہ نما کے مطابق دہشت گردی میں ملوث کسی شخص کے لیے رضاکار کا دروازہ نہیں کھولا گیا اور یقینی طور پر داعشیوں کے لیے بھی اس کی اجازت ہر گز نہیں ہو گی۔

رہ نما نے مزید بتایا کہ امریکی رپورٹ میں موجود نام بنیادی طور پر ان کی ملیشیا میں موجود نہیں ہیں ،،، اور یہ رپورٹ اس بات کا اعلان ہے کہ عراق میں ایک نئی دہشت گرد تنظیم تشکیل پا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں