لبنان : حکومت کی تشکیل کے لیے حزب اللہ کی بے بس کر دینے والی شرائط
لبنانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا نے سات ماہ سے تعطل کا شکار حکومتی تشکیل انجام پانے کے لیے "سخت" شرائط رکھ دی ہیں۔
ان شرائط میں شام میں بشار حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا، بشار حکومت کو بیروت میں اقتصادی ترقیاتی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے دعوت دینا، حزب اللہ پر عائد پابندیوں کے حوالے سے حکومت کا واضح سرکاری موقف متعین کرنا اور عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا کی طرز پر لبنان میں حزب اللہ کے کردار کو قانونی حیثیت دینا شامل ہے۔
لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق معاہدے کو کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نامزد وزیراعظم سعد حریری مختلف متسابق گروپوں سے تعلق رکھنے والے 30 وزراء پر مشتمل حکومت بنانے کے سمجھوتے تک پہنچنے کے واسطے کوشاں رہے۔
اس سلسلے میں آخری رکاوٹ یہ سامنے آئی کہ حزب اللہ ملیشیا انتخابات میں اپنے حلیف سنی گروپوں کے واسطے حکومت میں ایک نشست کا مطالبہ کر رہی ہے جب کہ حریری نے اس کو خارج از امکان قرار دیا۔
لبنان جی ڈی پی کے مقابل قرضوں کے سب سے زیادہ تناسب کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ جون میں عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا تھا کہ لبنان میں قرضوں کی صورت حال کو بہتر حالت میں لانے کے واسطے اصلاحات کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔
-
لبنان : سعد حریری حکومت تشکیل دینے کے لیے متحرّک
بیروت میں باخبر ذرائع کے مطابق لبنان میں نامزد وزیراعظم سعد حریری صدر میشیل عون، ...
مشرق وسطی -
ہماری معیشت کو انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا ہے: سعد حریری
لبنان میں نامزد وزیراعظم سعد حریری نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ 7 سے 10 روز کے اندر ...
مشرق وسطی -
رفیق حریری کے قاتل کے نام سڑک منسوب کرنا ’فتنہ‘ ہے: سعد حریری
لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے اپنے مقتول والد اور سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قاتل ...
مشرق وسطی