اسرائیل امریکا کے انخلا کے بعد شام میں ایران کے خلاف جنگ تیز کرے گا: نیتن یاہو کی دھمکی
صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیل شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد اس ملک میں ایران کی اتحادی فورسز کے خلاف لڑائی تیز کرے گا۔
انتہا پسند وزیراعظم نے جمعرات کو ایک نشری بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم شام میں ایران کو قدم جمانے کی کوششوں سے روکنے کے لیے بڑے جارحانہ انداز میں کارروائی جاری رکھیں گے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ ’’ہم اپنی کوششوں کو کم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ہم انھیں تیز کریں گے اور میں یہ بات جانتا ہوں کہ ہم امریکا کی مکمل حمایت کے ساتھ یہ کام کرسکتے ہیں‘‘۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں داعش شکست سے دوچار ہوچکے ہیں۔اسرائیل ایک عرصے سے امریکا کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ وہ شام سے اپنے فوجیوں کو واپس نہ بلائے کیونکہ اس طرح ایران کو اس ملک میں اپنے مضبوط قدم جمانے کا موقع مل جائے گا۔وہ امریکا کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی کرتا رہا ہے کہ ایران ایک بڑا خطرہ ہے۔
اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے رکن اور وزیر تعلیم نفتالی بینٹ کا کہنا ہے کہ ’’ شام میں داعش شکست سے دوچار ہوچکے ہیں اور یہ امریکا کے کردار کی وجہ سے ہوا ہے لیکن ایران وہاں آزادانہ نقل وحرکت کررہا ہے اور ایرانی پوری آزاد دنیا کے لیے ایک خطرہ ہیں‘‘۔
نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے ایک اور رکن ، وزیر خزانہ موشے کہلون نے آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ یقیناً امریکا کا فیصلہ ہمارے لیے اچھا نہیں ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل کی سکیورٹی کا تحفظ خطے میں امریکا کے بھی مفادات میں ہیں‘‘۔