ایرانی پولیس احتجاج کرنے والے نہتے اساتذہ پر پل پڑی
ایرانی پولیس نے اصفہان شہرمیں مہنگائی کی وجہ سے حکومت کے خلاف نکالی گئی ایک ریلی کو منشتر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجےمیں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی 'ہرانا' نیوز ایجنسی نے ایرانی پولیس کی طرف سے اساتذہ کی ریلی پر طاقت کے استعمال کی ایک فوٹیج جاری کی گئی ہے جس میں پولیس کونہتے مظاہرین کے خلاف آنسوگیس کی شیلنگ اور طاقت کے دیگر حربے استعمال کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
نیوز ایجنسی کے مطابق پولیس نےاحتجاج کرنے والے تین اساتذہ کوحراست میں لے لیا ہے۔ یہ لوگ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا مطالبہ کررہے تھے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی فوٹیج میں اصفہان میں سیکڑوں اساتذہ کو احتجاج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران اچانک 50 پولیس اہلکار ان پر پڑے اور ریلی کی تصاویر بنانے والے شہریوں سے ان کے موبائل بھی چھین لیے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ایرایرانی پولیس نے 12 اساتذہ کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج کرنے کی پاداش میں 30 کو حراستی مراکز میں پیش ہونے کےنوٹس جاری کیے گئےتھے۔
در جریان #تجمع امروز پنجشنبه ۶ دیماه، #فرهنگیان شاغل و بازنشسته در #اصفهان، ماموران گارد ویژه اقدام به شلیک گاز اشک آور در میان معترضان کردهاند. pic.twitter.com/e7LROnYKtN
— خبرگزاری هرانا (@hra_news) December 27, 2018
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم'ہیومن رائٹس واچ' کے مطابق 13 نومبر کو ایران میں اساتذہ نے ملک گیر احتجاج کیا جس میں اساتذہ سمیت لاکھوں افراد نے حصہ لیا۔