.

شام : باغوز میں ایس ڈی ایف کی پیش قدمی رُک گئی ،داعش کے جوابی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں واقع گاؤں باغوز میں داعش اور شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور ایس ڈی ایف کی فیصلہ کن کارروائی کے ردعمل میں جوابی حملے شروع کردیے ہیں۔

امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے باغوز میں دریا کی مغربی سمت سے جوابی حملہ کیا ہے۔اس کے بعد سے ایس ڈی ایف اور داعش کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور وہ داعش کے حملے کو پسپا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک اور کمانڈر کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح کے بعد لڑائی میں داعش کے چار جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔ایک تیسرے کمانڈر دلبرین نرجیز نے بتایا ہے کہ داعش نے علی الصباح جوابی حملے کا آغاز کیا تھا۔وہ بالعموم دن کی روشنی میں لڑائی کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس رات کو دیکھنے والے آلات اور ہتھیار نہیں ہیں۔

دریں اثناء امریکا کی قیادت میں اتحاد نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس نے باغوز میں دن رات داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ انتہا پسندوں کی آزادانہ نقل وحرکت کو محدود کیا جاسکے۔اس وقت ایس ڈی ایف کی زمینی کارروائی کے ساتھ فضائی حملے جاری ہیں مگر داعش کے انتہاپسند سخت مزاحمت کررہے ہیں۔وہ جھڑپوں کے دوران میں مارٹر گولے اور راکٹ گرینیڈ فائر کررہے ہیں۔

گذشتہ روز یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ داعش کے جنگجو اپنے آخری ٹھکانے باغوز میں ایس ڈی ایف سے لڑائی میں شکست سے دوچار ہونے کو ہیں۔ اس گروپ سے وابستہ سیکڑوں انتہا پسندوں اور ان کے خاندانوں نے خود کو امریکا کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے حوالے کردیا ہے۔

باغوز شام میں داعش کا آخری ٹھکانا رہ گیا ہے۔شام اور اس کے پڑوسی ملک عراق میں گذشتہ چار سال کے دوران میں داعش سے تمام علاقے چھن چکے ہیں ۔تاہم وہ ٹولیوں کی شکل بعض علاقوں میں اب بھی برسرپیکار ہیں اور حملے کرتے رہتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داعش شام میں شکست سے دوچار ہونے کے باوجود گوریلا جنگ جاری رکھیں گے۔

ایس ڈی ایف نے باغوز میں داعش کے خلاف اتوار کو فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا تھا ۔عر ب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل اس ملیشیا نے گذشتہ کئی ماہ سے اس گاؤں کا محاصرہ کررکھا تھا اور اس کی حمایت میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے تھے۔

ایس ڈی ایف کے ایک عہدہ دار مصطفیٰ بالی نے بتایا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں اور خاندانوں پر مشتمل ایک بڑے گروپ نے اجتماعی طور پر ہتھیار ڈال دیے ہیں اور خود کو حوالے کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ جب ہماری فورسز اس امر کی تصدیق کردیں گی کہ جو کوئی بھی ہتھیار ڈالنا چاہتا ہے اور اس نے ایسا کردیا ہے تو پھر داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی دوبارہ شروع کردی جائے گی‘‘۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان کینو جبرائیل نے الحدث ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھاکہ ’’ کارروائی ختم ہوچکی یا ختم ہونے کی قریب ہے ۔تاہم برسرزمین اس کے عملی طور مکمل ہونے میں ابھی کچھ مزید وقت درکار ہوگا‘‘۔باغوز میں داعش کے خلاف اس فیصلہ کن معرکے کے دوران میں بے گھر ہونے والے افراد یا خود کو ایس ڈی ایف کے حوالے کرنے والوں کو شام کے شمال مشرقی علاقے الحول میں قائم ایک کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کیمپ کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے کیونکہ یہ کیمپ قریباً بیس ہزار افراد کو پناہ دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن اس وقت وہاں 66 ہزار سے زیادہ افراد رہ رہے ہیں۔