عوامی دبائو پر مصر میں دولت عثمانیہ کے بانی ارطغرل سے موسوم ہوٹل کا نام تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر میں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں کی طرف سے شدید احتجاج کے بعد ساحلی شہر مُرسیٰ مطروح میں خلافت عثمانیہ کے بانی ارطغرل کے نام سے قائم ہوٹل کا نام تبدیل کر دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق مصر میں کچھ عرصے سے 'ارطغرل' کے نام سے ایک ہوٹل قائم تھا۔ عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا کارکنوں‌ نے شہر میں اس نام کے ہوٹل کے قیام پراعتراض کیا اور انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہوٹل کا نام تبدیل کرائیں۔

ناقدین کا کہنا تھا کہ ہوٹل کی انتظامیہ کو مصری عوام کے جذبات کا اندازہ اور احساس نہیں کہ وہ اس نام سے کتنے ’الرجک‘ ہیں۔ مصریوں کو ارطغرل اور اس کے لشکر کے مظالم، عثمانیوں‌ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، مصر اور دوسرے عرب ممالک پر قبضے کے دوران بے گناہ لوگوں‌ کے قتل عام کے واقعات آج بھی یاد ہیں۔

خیال رہے کہ مصر کے شمالی ساحلی شہر میں ارطغرل ریسٹورینٹ دو ماہ قبل قائم کیا گیا تھا۔ مقامی شہریوں‌ نے انتظامیہ اور متعلقہ حکومتی عہدیداروں پر زور دیا تھا کہ وہ ہوٹل کا نام تبدیل کرانے کے لیے ہوٹل مالکان پر دبائو ڈالیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ قاہرہ کی تمام سڑکوں اور عثمانیوں کے ناموں سے منسوب دیگر جگہوں کے نام تبدیل کرنے کے نمونے پرعمل کرتے ہوئے ہوٹل کا نام بھی تبدیل کریں۔

سوشل میڈیا پر دولت عثمانیہ کے بانی کے نام سے ہوٹل قائم کرنے کو مصری عوام کے جذبات کی ’توہین‘ قرار دیتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا گیا ’’کہ ہمارے ملک میں مصری قوم کے دشمنوں اور ان کے ہیروز کے ناموں کی کوئی گنجائش نہیں۔

درایں اثنا ہوٹل کے مالک اشرف جابر نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی اصرار اور مطالبے کے بعد ہوٹل نام بدل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں۔ اس لیے ہوٹل کا وہی نام رکھا جائے گا جو مصری عوام کے لیے قابل قبول ہو۔ تاہم انہوں‌ نے ہوٹل کا نام 'ارطغرل' رکھنے کا سبب بیان کرنے سے انکار کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں