درست منصوبہ بندی کامیابی کی کلید ہے: سعودی وزیر مملکت محمد الشیخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

’’غزہ اور مغربی کنارے میں اقتصادی خوشحالی کے لئے درست منصوبہ بندی اور نوجوان ناگزیر عناصر ہیں۔‘‘ ان خیالات کا اظہار سعودی وزیر مملکت محمد الشیخ نے بحرینی صدر مقام مناما میں ’’امن سے خوشحالی کانفرنس‘‘ میں بدھ کے روز ہونے والی مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

’’معاشی امکانات کی تلاش‘‘ کے موضوع پر ہونے والی مجلس مذاکرہ امریکی وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ اختیاراتی مشیر جیرڈ کشنر کے مشرق وسطیٰ امن منصوبہ کا مرکزی نقطہ ہے۔ جیرڈ کشنر کے امن منصوبہ کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین سیاسی معاملات کے حل کے لئے معاشی راہ ہموار کرنا ہے۔

مذاکرے کے منتظم اور امریکی ملکن انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر رچرڈ سینڈلر نے سعودی وزیر مملکت سے سوال کیا کہ ’’غزہ اور مغربی کنارے میں معاشی امکانات کی تلاش کے ضمن میں کیا سعودی عرب کے تجربے کو بطور کیس سٹڈی استعمال کیا جا سکتا ہے؟‘ ‘ اس کے جواب میں وزیر مملکت الشیخ نے بتایا: ’’مملکت نے منصوبہ بندی پر کافی وقت لگایا ہے۔‘‘

’’مملکت میں ہم آج جن حالات سے گذر رہے ہیں، اس کی منصوبہ بندی پر بہت وقت صرف ہوا۔ ہم نے اپنی معیشت میں تنوع اور اسے حقیقی معنوں میں تبدیل کرنے کے لئے اپنی کمزرویوں اور صلاحیتوں کا بھرپور جائزہ لیا۔یہ سب سچی لگن اور محنت کا متقاضی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’کسی چھوٹے علاقے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے موجودہ منصوبہ خطے کے ممالک کو ایک نہج پر لانے کی کوشش ہے۔ میری دانست میں یہ بہت اہم ہے کیونکہ تمام ملکوں کے اقتصادی رابطوں سے بہتر مواقع اور امکانات پیدا ہوں گے۔ ‘‘

مذاکرے کی ایک فاضل شریک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ’’آئی ایم ایف‘‘ کی سربراہ کرسٹین لاگاردے نے روز گار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ ’’مغربی کنارے میں بے روزگاری کا تناسب تیس جبکہ غزہ میں پچاس فیصد ہے۔ اس کا پس منظر بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ دونوں علاقوں میں فی الوقت یہ آبادی پانچ ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ دو ہزار پچاس تک یہ آبادی دگنا ہو جائے گی اور دو ہزار تیس تک ان میں ساٹھ فیصد کام کرنے قابل ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں