عرب اتحاد کے 30 ’مخبروں‘ کو نام نہاد حوثی عدالت نے موت کی سزا سنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کے مسلح حوثی قبائل کے زیر انتظام ایک نام نہاد عدالت نے 30 دانشوروں، ٹریڈ یونین عہدیداروں اور تبلیغی علماء کو مبینہ طور پرعرب اتحاد کے لئے جاسوسی کی پاداش میں سزائے موت سنائی ہے۔

ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی’’ اے ایف پی ‘ کو بتایا باغیوں کے زیر نگین دارلحکومت صنعاء کی ایک فوجداری عدالت میں 36 افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ مدعا علیھم گذشتہ ایک برس سے باغیوں کی تحویل میں تھے۔

ذرائع کے مطابق فوجداری عدالت نے منگل کے روز تیس افراد کو’ جارح ممالک کے لئے جاسوسی ‘کے الزام میں فنا کے گھاٹ اتارے جانے کی سزا سنائی۔ چھ ملزموں کو مقدمہ میں ناکافی شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا۔ سزا ئے موت پانے والے افراد پر الزام تھا کہ وہ عرب اتحاد کو بمباری کے لئے زمینی اہداف کی نشاندہی کیا کرتے تھے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ نے یہ کہتے ہوئے ان ’’جعلی مقدمات‘‘ کی مذمت کی ہے کہ ’’ ان کے ذریعے حوثی اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق "سزائے موت پانے والوں میں 45 سالہ یوسف البواب بھی شامل ہیں جو کہ پیشے کے اعتبار سے پروفیسر ہیں۔ انہیں 2016ء کے اواخر میں حراست میں لیا گیا۔"

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر ریسرچ برائے مشرق وسطیٰ لین معالوف کے مطابق ’’ حوثیوں کے فی الواقع 2015 سے عدالتی انتظام و انصرام سنبھالنے کے بعد سے صنعاء میں قائم خصوصی فوجداری عدالتوں کو مخالفین اور ناقدین کو شد ومد سے نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں