یمن میں عرب اتحاد طاقتور اور مضبوط ہے: قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے اتوار کے روز ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ یمن میں سعودی عرب اور عرب اتحاد مضبوط اور طاقت ور ہے۔
’’یمن میں عرب اتحاد اور بالخصوص برادر ملک سعودی عرب اور یو اے ای مضبوط اور طاقتور ہیں۔ بحرانوں اور جنگ کی بھٹی کے امتحانات سے گذرنے کے بعد اب یہ اتحاد اپنے سیاسی اور فوجی داؤ پیچوں کو اگلے مرحلے کے لئے تیار کر رہا ہے تاکہ انہیں استعمال میں لاتے ہوئے اسٹرٹیجیک اہداف حاصل کئے جا سکیں۔‘‘
التحالف العربي في اليمن وفي قلبه المملكة العربية السعودية الشقيقة ودولة الامارات صلب وقوي وعزز آلياته امتحان الأزمة والحرب، التحالف يستعد للمرحلة القادمة بأدواته السياسية والعسكرية وبإصرار على تحقيق أهدافه الاستراتيجية.
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) July 21, 2019
انھوں نے مزید کہا کہ ’’افغانستان، عراق اور شام کی جدید لڑائیاں ان کی واضح مثال ہیں۔ ان جنگوں کے مقابلے میں عرب اتحاد کو اپنے تزویراتی مقاصد میں کامیابی ملی ہے۔ بالخصوص خطے میں طاقت کے توازن اور غصب شدہ اراضی کی واپسی عرب اتحاد کی اہم کامیابیاں ہیں۔ اتحاد کا آئندہ ہدف ان جگہوں پر سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے۔‘‘
اس سے قبل ڈاکٹر انور قرقاش سے منسوب یہ بیان سامنے آیا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمن میں انسانی محاذ پر خدمت سرانجام دینے والے دو بڑے ملک ہیں۔ ان دونوں نے گذشتہ برس 930 ملین ڈالر کی امداد اقوام متحدہ کو دی تھی، جو عالمی ادارے کی تاریخ میں انسانی خدمت کی مد میں دی جانے والی سب سے بڑی امداد ہے۔