.

عراق نے تیل بردار جہاز کے حوالے سے ایرانی دعوے کو جھٹلا دیا ...

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ خلیج میں ایران کے ہاتھوں قبضے میں لیے جانے والے تیل بردار جہاز سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایران کا دعوی ہے کہ مذکورہ جہاز ایندھن اسمگل کر رہا تھا۔

عراقی وزارت کے ترجمان عاصم جہاد کے مطابق ان کا ملک عالمی منڈیوں کو "گیس آئیل" برآمد نہیں کرتا اور عالمی سطح پر معروف قواعد و ضوابط کے مطابق اعلانیہ طور پر خام تیل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی برآمد تک محدود ہے۔ ترجمان کہا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے قبضے میں لیے جانے والے بحری جہاز کے بارے میں معلومات اکٹھا کر رہے ہیں۔ جہاد نے باور کرایا کہ یہ اُن چھوٹے جہازوں میں سے ہے جن کو عراقی وزارت تیل مارکیٹنگ کے عمل میں استعمال نہیں کرتی۔

اس سے قبل ایران نے اتوار کے روز کہا تھا کہ پاسداران انقلاب نے ایندھن کی اسمگلنگ کے سبب خلیج میں بدھ کے روز جو تیل بردار جہاز قبضے میں لیا وہ ایک عراقی جہاز ہے۔ پاسداران انقلاب کے دعوے کے مطابق تحویل میں لیا جانے والا جہاز ایرانی تیل دیگر ممالک کو اسمگل کر رہا تھا۔

ایرانی میڈیا نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ پاسداران انقلاب نے خلیج کے پانی میں ایک غیر ملکی جہاز کو تحویل میں لینے کا اعلان کیا ہے جو 7 لاکھ لیٹر تیل منتقل کر رہا تھا۔ جہاز پر 7 افراد موجود تھے۔ جہاز کو ایران کے جنوب میں بوشہر کی بندرگاہ پہنچا دیا گیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے 19 جون کو اعلان کیا تھا کہ اس نے برطانیہ کے ایک تیل بردار جہاز "اسٹینا امپیرو" کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران تحویل میں لے لیا ہے۔

اس سے قبل تہران نے دھمکی دی تھی کہ امریکا کے کسی بھی حملے کا نشانہ بننے کی صورت میں تہران وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کرے گا۔

مئی 2018 میں ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والی حالیہ ایرانی سرگرمیوں کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔