.

ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کا تناسب 50% تک بڑھانے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے ایک رکن حمید رضا حبیبی کے مطابق اتوار کے روز ایک اجلاس میں جوہری معاہدے کی پاسداری کم کرنے کے تیسرے مرحلے میں یورینیم کی افزودگی کا تناسب 50% تک بڑھانے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اجلاس میں ایرانی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی اور ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقجی بھی موجود تھے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے زیر انتظام خبر رساں ایجنسی "ايكانا" نے حمید رضا حبیبی کے حوالے سے بتایا کہ صالحی نے باور کرایا ہے کہ تہران "جدید سینٹری فیوجزIR-6 ، IR-7 اورIR-8 کو چلانے پر کام کر رہا ہے جو یورینیم کی افزودگی کے واسطے استعمال ہوتے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "اِرنا" کے مطابق صالحی نے باور کرایا کہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر اراک کے جوہری ری ایکٹر میں سرگرمیاں ہوں گی۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نقوی حسینی کے مطابق اجلاس میں سینٹری فیوجز کی نئی جنریشن کے استعمال پر زور دیا گیا جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یورینیم کی افزودگی کی تناسب 50% تک بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔

ایران جوہری لحاظ سے اپنی پاسداریوں میں کمی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اس میں افزودہ یورینیم کی سطح اور پیداوار کے تناسب میں اضافہ، پلوٹینیم کی پیداوار کے لیے بھاری پانی تیار کرنے والے آراک ری ایکٹرز کو دوبارہ چلانا شامل ہے۔ یہ ایندھن جوہری وار ہیڈز کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکورٹی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں انکشاف کیا جا چکا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے میں اپنے عہد کے باوجود جوہری ہتھیاروں کے حصول سے متعلق سرگرمیاں ہر گز ختم نہیں کیں۔ اس نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مطلوب یورینیم کی افزودگی کی سطح کے واسطے زیر زمین تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا۔

یورینیم کی افزودگی میں اضافہ جو ایٹم بن تیار کرنے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ،،، اس سے متعلق ایران کی حالیہ دھمکیوں کی روشنی میں تہران کے جوہری ہتھیاروں کے قریب پہنچنے کے حوالے سے اندیشوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ فردو (ایرانی گاؤں) میں یورینیم افزودہ کرنے کی تنصیب ایران کی حالیہ دھمکیوں کا حصہ ہو۔ اس کا مقصد افزودہ یورینیم اور اس کی ذخیرہ اندوزی کی اعلی سطح کی جانب بتدریج منتقلی ہے۔ اگر وہاں ایسا ہو گیا تو یہ کمپاؤنڈ فضائی بم باری کی مزاحمت کے حوالے سے مامون ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ اعلی سطح پر افزودہ یورینیم کی تیاری سے ایران ہر سال ایک سے دو جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایران پر عائد پابندیوں کی مہلت ختم ہونے کا وقت قریب ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کے حلیفوں پر زور دیا کہ وہ عدم استحکام کا باعث ایرانی برتاؤ ختم کرنے کے لیے تہران پر دباؤ بڑھائیں۔