'ٹرمپ کی جگہ کوئی بھی امریکی صدر ہوتا تو وہ ایران سے معاہدہ توڑ دیتا'
جوہری معاہدے کے وقت بھی امریکی عزائم خطرناک تھے: عباس عراقجی
ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقجی نے ایک غیر مسبوق بیان میں کہا ہےکہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ کوئی شخص صدر ہوتا تو وہ بھی ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے الگ ہوجاتا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی 'ارنا' کے مطابق عباس عراقجی نے ایران کے مکروہ اور 'شیطانی' عزائم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب امریکا نے جوہری معاہدے میں شمولیت پر اتفاق کیا تھا، امریکا کے عزائم اس وقت بھی خطرناک تھے۔
عباس عراقجی کا کہنا تھا کہ امریکا کا خیال تھا کہ جوہری معاہدے کے نتیجے میں ایرانی نظام کمزور ہوگا مگر اس معاہدے نے ایران کو مزید طاقت ور بنا دیا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے کے باوجود ایران خطرناک ہتھیار اور تباہ کن میزائلوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
-
ایرانی تیل بردار جہاز "ایڈریان ڈاریا 1" ترکی کے پانی میں داخل
روسی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہاز ایڈریان ڈاریا ...
بين الاقوامى -
امریکا کی ایرانی حکومت اور فوج سے وابستہ دو نیٹ ورکس پر پابندیاں عاید
امریکا کے محکمہ خزانہ نے ایران کی حکومت اور فوجی تنظیموں سے وابستہ دو نیٹ ورکس ...
بين الاقوامى -
عراق میں ایرانی ملیشیائوں کی سرگرمیوں پرامریکا کو تشویش
امریکی وزارت خارجہ نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن ...
مشرق وسطی