نئے ہجری سال کے آغاز پر یہودی شرپسندوں کی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی
اسرائیلی انتہا پسند وزیر کی قیادت میں دسیوں یہودیوں کا مسجدِ اقصیٰ پردھاوا
نئے اسلامی (ہجری) سال کے پہلے روز اتوار کی صبح قریبا 90 یہودی انتہا پسندوں نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں دھاوا بولا اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی نشر کردہ ایک فوٹیج میں مسلمانوں کے قبلہ اول پر دھاووں میں سخت گیر اسرائیلی وزیر زراعت اوری ایرئیل کو دیکھا جا سکتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نامہ نگار کے مطابق مسجد اقصیٰ کے قریب فلسطینیوں نے فلسطینی پرچم لہرایا تھا جسے قابض فوج نے کافی پریشانی سے اتارا۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اردن کی وزارت خارجہ نے عمان میں اسرائیل کے سفیر کو طلب کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کے دھاووں کی مذمت کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی مداخلت کو مسترد کر دیا تھا۔
مشرقی بیت المقدس میں موجود تمام مقدس مقامات اور حرم قدسی اردن کے اسلامی اوقاف کے زیر انتظام ہے مگر ان مقامات پر اسرائیلی فوج اور پولیس کا تسلط قائم ہے۔
-
مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر اردن میں اسرائیلی سفیر کی طلبی
حرم قدسی میں اسرائیل کی مذہبی غنڈہ گردی ناقابل قبول ہے
مشرق وسطی -
مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پراسرائیلی پولیس گردی قابل مذمت ہے: سعودی عرب
سعودی عرب نے کل عید کے روز مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد ...
مشرق وسطی -
ایک لاکھ فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں عید کی نمازمیں حاضری
قابض صہیونی پولیس کا قبلہ اول میں نمازیوں پرحملہ، دسیوں زخمی
مشرق وسطی