کسی گروپ کا جنگ سے متعلق انفرادی فیصلہ کرنا لبنان کے مفاد میں نہیں : عرب لیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جرمنی کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عرب لیگ کے جنرل سکریٹریٹ میں ایک ذمے دار ذریعے نے بتایا ہے کہ لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط لبنان اور سرائیل کے بیچ سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے تبادلے سے متعلق پیش رفت کا تشویش کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ کسی بھی فریق یا گروپ کا جنگ سے متعلق انفرادی فیصلہ لبنانی ریاست اور عوام کے مفاد میں ہر گز نہ ہو گا۔

احمد ابو الغیط نے باور کرایا کہ عرب لیگ کسی بھی جانب سے جارحیت کی صورت میں لبنان کی ریاست کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اسرائیلی ردود عمل کو قابو میں رکھنے کی ذمے دار ہے ، یہ ردود عمل اندرونی انتخابات کی غرض سے امور کو مزید جارحیت کی جانب لے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے بعد لبنان اور اسرائیل کے بیچ سرحد پر کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے امریکا کو تشویش ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے ایک ذمے دار کی زبانی باور کرایا کہ امریکا خود کا دفاع کرنے سے متعلق اسرائیل کے حق کو مکمل سپورٹ کرتا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق حزب اللہ پر لازم ہے کہ وہ ایسی دشمنانہ کارروائیوں سے رک جائے جس کا مقصد لبنان کے امن، استحکام اور خود مختاری کو خطرے میں ڈالنا ہو ... یہ امر خطے میں امن و سلامتی کو سبوتاژ کرنے کے ذریعے ایران کے ایجنٹوں کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک اور مثال ہے۔

اسرائیل نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کی اراضی کی جانب ٹینک شکن میزائل داغے جانے کے بعد اس نے لبنان کے جنوبی علاقوں پر بم باری کی۔ ادھر حزب اللہ تنظیم نے اتوار کے روز بتایا کہ لبنان کی جنوبی سرحد کے نزدیک افیفیم کے علاقے میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی تباہ کر دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں