لبنان : رہائشی علاقوں میں حزب اللہ کی 5 جیلیں تشدد اور اذیت رسانی کے مراکز
لبنان میں "حزب الله" کی مخالف سیاسی شخصیات اکثر یہ موقف دہراتی ہیں کہ تنظیم نے ریاست کے اندر ایک چھوٹی ریاست تشکیل دے رکھی ہے ... یا پھر حزب اللہ لبنان میں ایک ریاست کا نام ہے جو اپنے سیاسی اور سیکورٹی نفوذ کی بنیاد پر ملک کے وسیع علاقوں پر مسلط ہے۔
لبنانی ریاست کے اندر پروان چڑھنے والی حزب اللہ کی "چھوٹی ریاست" میں ایران نواز ملیشیا نے خفیہ جیلیں بھی قائم کر رکھی ہیں۔ یہاں حزب اللہ کی پالیسی کی مخالفت کرنے والے افراد کو حراست میں رکھا جاتا ہے خواہ ان کا تعلق خود ملیشیا سے یا ملیشیا کے باہر سے ہو۔ ذرائع نے العربیہ کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان جیلوں میں نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
مذکورہ تمام جیلیں دارالحکومت بیروت کے جنوبی نواحی علاقے الضاحیہ کے اندر رہائشی علاقوں کے بیچ واقع ہیں۔ الضاحیہ کو حزب اللہ کا گڑھ شمار کیا جاتا ہے جس کے انتظامی امور ملیشیا کے دو یونٹوں Protection and preventive security کے ہاتھوں میں ہے۔
گنجان آباد علاقوں میں 5 جیلیں
حزب اللہ کے گڑھ الضاحیہ کے پانچ عوامی علاقوں میں تقسیم پانچ خفیہ جیلیں درج ذیل ہیں :
1۔ حریک کے علاقے میں قائم مرکزی جیل جو بہمن ہسپتال کے عقب میں واقع ہے۔
2 ۔ بئر العبد جیل جو اسلامی تعاون مرکز کے عقب میں واقع ایک عمارت میں قائم ہے۔ اس جیل میں ایک قید خانہ اور ایک تفتیشی مرکز شامل ہے۔
3 ۔ القائم کمپلیکس کے نزدیک واقع تفتیشی مرکز۔
4 ۔ سیدہ زینب (رضی اللہ عنہا) کمپلیکس کے نزدیک واقع بئر العبد میں قائم جیل۔
5 ۔ المجتبی کمپلیکس کی جیل جو حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار کی عمارت کے عقب میں واقع ہے۔ اس جیل میں تنہا اور غیر تنہا بیرکیں موجود ہیں۔ آل شمص قبیلے کی دو لڑکیوں کو اغوا کیے جانے کے بعد انہیں اس جیل میں رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں جیل کا انکشاف ہونے پر اس کی بعض بیرکوں کو ختم کر دیا گیا۔
حزب اللہ کی مذکورہ جیلوں میں وقت گزارنے والے ایک سابق قیدی ابو زینب (عُرفیت) نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنی کہانی سنائی۔ اس نے 2009 سے 2015 تک (25 دن کم) چھ برس حزب اللہ کے عقوبت خانوں میں روح فرساں عرصہ گزارا۔ ابو زینب کے مطابق اس دوران اسے مختلف طریقوں سے مار پیٹ اور جسمانی و نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، طویل دورانیوں تک بھوکا رکھا گیا، فون پر گھر والون سے بات چیت سے بھی محروم کر دیا گیا۔ گھر والوں کو ایک یا دو ماہ بعد محض آدھے گھنٹے کی ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ ابو زینب کو جیل کے ذمے داران کے علاوہ وہاں موجود قیدیوں کی طرف سے بھی معمولی باتوں پر مار پیٹ کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
ابو زینب کے مطابق سب سے زیادہ اپنے ساتھی قیدیوں کی چیخوں کو سن کر ہوتی تھی۔ ان لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا بالخصوص بجلی کے جھٹکے دیے جانے پر ان کی چیخ و پکار ناقابل برداشت ہوتی تھی۔ یہ آوازیں پوری رات سنائی دیتی تھیں۔
ابو زینب نے بتایا کہ اسے ایک کاروباری شخص کے ساتھ دھوکہ دہی اور غبن کرنے کے الزام میں قید کیا گیا۔ یہ شخص حزب اللہ کے عسکری کمانڈر مصطفی بدر الدین کے ساتھ شراکت داری میں کام کیا کرتا تھا۔ بدر الدین جس کو 2016 میں قتل کر دیا گیا تھا، اس نے حزب اللہ کی جیلوں کے ذمے دار ہونے کی حیثیت سے ابو زینب کو جیل میں ڈال دینے کا حکم دیا تھا۔
باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ کی جیلوں میں سیکڑوں افراد پڑے سڑ رہے ہیں۔ ان میں نہ صرف ملیشیا کی پالیسی سے اختلاف رکھنے والے ہیں بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو حزب اللہ کے ذمے داران سے متعلق معاملات میں ملوث ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی معلومات کے مطابق انہی قیدیوں میں حزب اللہ کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ نواف الموسوی کی بیٹی کو طلاق دینے والا اس کا داماد حسن المقداد بھی شامل ہے۔ وہ الضاحیہ میں حزب اللہ کی ایک جیل میں تقریبا ایک ماہ سے قید ہے۔ المقداد بچوں کو رکھنے سے متعلق معاملے کے پس منظر میں جولائی میں اپنے سسر کے ساتھ ہونے والے مسلح جھگڑے کی پاداش میں جیل میں پہنچا دیا گیا۔ حسن المقداد لبنان میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قانونی سکریٹری کے دفتر کے ڈائریکٹر محمد توفیق المقداد کا بیٹا ہے۔ حسن کے اپنی مطلقہ کے ساتھ مسائل کے نتیجے میں الموسوی کو لبنانی پارلیمنٹ کی رکنیت سے مستعفی ہونا پڑا۔
شامی پناہ گزین بھی تشدد کی لپیٹ میں !
ایسا لگتا ہے کہ حزب اللہ محض اپنے لبنانی مخالفین کو جیل میں ڈالنے پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ وہ شامی شہریوں بالخصوص بشار حکومت کے مخالفین کو بھی گرفتار کر رہی ہے۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق "شام کی جیشِ حُر" سے ہے جنگ کے سبب فرار ہو کر لبنان پہنچے تھے۔ ان لوگوں کو ہر طرح کے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
حزب اللہ کی جیلوں میں حراست میں رکھے جانے کی مدت کا انحصار مرتکب جرم کی نوعیت سے ہوتا ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ طویل مدت کا سامنا ان قیدیوں کو ہوتا ہے جن پر اسرائیل کے حق میں ایجنٹ بن کر کام کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔