.

لبنانی صدرعون کا مستعفی ہونے سے انکار،کرپشن کو بحران کا ذمے دار قرار دے دیا

تمام سیاسی جماعتوں میں کرپشن ہے،سیاست دانوں کو سرکاری خزانے سے خرد برد کی گئی رقم لوٹانی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشیل عون نے احتجاجی مظاہرین کے مطالبے پراپنا منصب چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے جمعرات کو ایک نشری خطاب میں کہا ہے کہ فرقہ واریت اور بدعنوانیوں نے ملک کو تباہ کردیا ہے۔

لبنان میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد ان کا قوم سے یہ پہلا خطاب ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’میں نے حکومت کی تبدیلی کے لیے بہت سے مطالبات سنے ہیں، حکومت راتوں رات تو تبدیل نہیں کی جاسکتی ۔ حکومت کی تبدیلی کا عمل آئینی اصلاحات کے ذریعے ہونا چاہیے۔‘‘

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’میں نے لبنان کومستحکم کیا اور ایک محفوظ جگہ بنا دیا ہے۔‘‘ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’فرقہ واریت اور کرپشن نے ملک کو تباہ کردیا ہے۔‘‘

انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’تمام سیاسی جماعتوں میں کرپشن ہے اور اسی وجہ سے ملک میں بحران پیدا ہوا ہے۔سیاست دانوں کو خرد برد کی گئی رقوم واپس کرنی چاہیے۔کرپشن کا کوئی دین یا فرقہ نہیں۔کرپشن کی نشان دہی کی جانی چاہیے اور پھر معاملات عدلیہ کے سپرد کردینے چاہییں۔‘‘

لبنانی صدر نے مزید کہا کہ ’’تمام سیاسی جماعتیں سرکاری خزانے کو چوری ہونے سے بچانے کی ذمے دار ہیں۔‘‘ انھوں نے وزیراعظم سعد الحریری کی جانب سے پیش کردہ اقتصادی اصلاحات کو بحران کا حل قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’منظور کردہ اصلاحات لبنان کو بچانے کی جانب پہلا قدم ہیں۔‘‘ان اصلاحات میں ایک ایسا بل بھی شامل ہے جس کے تحت پارلیمان کے ارکان اور سرکاری حکام کو حاصل سیاسی استثنا ختم ہوجائے گا۔

صدر میشیل عون نے ان اصلاحات کو لبنانی عوام کی کامیاب قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کا احترام کیا گیا ہے اور تمام عوام اس کی قدر کرتے ہیں۔انھوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ان اصلاحات کی نگرانی کریں۔

لبنانی صدر نے اپنے تقریر کے اختتام میں ایک مرتبہ پھر کہاکہ وہ اپنا عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔استعفے کے بجائے انھوں نے مذاکرات کو بحران کا حل قرار دیا ہے۔انھوں نے مظاہرین کو مخاطب کرکے کہا:’’ آئیں!ایک تعمیری مکالمہ کرتے ہیں۔بہترین نتائج کے حصول کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ڈائیلاگ ہی (بحران کے) حل کا بہترین راستہ ہے۔ میں آپ کے نمایندوں سے ملاقات اور آپ کے مطالبات سننے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

تقریر سے مظاہروں کا زور ٹوٹے گا؟

لبنان کے دارالحکومت بیروت اور دوسرے شہروں میں گذشتہ ایک ہفتے سے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ان میں ہزاروں مرد وخواتین اور بچے حصہ لے رہے ہیں۔وہ سرکاری حکام کی کرپشن اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

مظاہرین حکومت کے کفایت شعاری کے لیے مجوزہ اقدامات اور انحطاط کا شکار انفرااسٹرکچر کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ لبنان کے پورے سیاسی نظام میں اصلاحات اور حکمراں اشرافیہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

صدر میشیل عون کی جماعت مستقبل حب الوطن تحریک ( ایف پی ایم) سمیت تمام سیاسی جماعتیں مظاہرین کی تنقید کا ہدف بنی ہوئی ہیں۔وہ صدر کے داماد اور لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسیل کے خلاف خاص طور پر سخت نعرے بازی کررہے ہیں۔اس صورت حال میں اس بات کا کم ہی امکان نظر آرہا ہے کہ مظاہرین صدر میشیل عون کی تقریر سے متاثر ہوجائیں گے اور وہ اپنی اس احتجاجی تحریک کو ختم کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔

العربیہ کے نمایندے کی اطلاع کے مطابق ملک بھر میں بڑی شاہراہیں بدستور بند ہیں اور دارالحکومت بیروت کی مرکزی شاہراہ کو بھی مظاہرین نے بند کررکھا ہے۔لبنانی حکومت نے ملک بھر میں مظاہروں کے دوران میں کسی ناخوشگوار واقعے پرقابو پانے کے لیے فوج کو تعینات کردیا ہے۔جنوبی علاقے نبطیہ میں بھی مظاہرین پر بدھ کی شب حملے کے بعد فوج کو تعینات کردیا گیا ہے۔