عراق اور شام کی سرحد پر امریکی لڑاکا طیاروں کی پروازیں
عراق میں العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے القائم اور دیگر سرحدی علاقوں کی فضاؤں میں امریکی لڑاکا طیاروں کی پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک وڈیو کلپ سے اُن فضائی حملوں کی تصدیق ہوتی ہے جن میں اتوار کے روز عراق اور شام میں حزب اللہ بریگیڈ تنظیم کے صدر مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ویب سائٹ پر پوسٹ ہونے والی وڈیو میں ایک ٹھکانے کو ڈرون طیارے کے ذریعے حملے کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح امریکی فوج نے بعض فضائی تصاویر بھی جاری کیں جن میں حملے سے قبل اور اس کے بعد مذکورہ ٹھکانوں کی صورت حال دکھائی گئی ہے۔
امریکی افواج نے اتوار کے روز عراقی حزب اللہ کے اڈوں پر سلسلہ وار فضائی حملے کیے تھے۔ ان کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ یہ کارروائی عراق میں اتحادی افواج کے اڈوں پر ہونے والے اس میزائل حملے کے دو روز بعد سامنے آئی جس میں ایک امریکی ٹھیکے دار ہلاک اور ایک فوجی زخمی ہوگیا تھا۔
عراق میں "العربيہ" کے نمائندے کے مطابق عراقی حزب اللہ کے اڈوں پر امریکی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے جن میں 3 ایرانی افسران بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ امریکی بم باری میں عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے 50 کے قریب ارکان زخمی بھی ہوئے۔
امریکی وزارت دفاع "پینٹاگان" کے مطابق امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں درجنوں جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان میں جنگجو کا ایک اہم لیڈر ابو علی الخزعلی شامل ہے۔
امریکی پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے عراقی حزب اللہ تنظیم کے 5 مقامات کو حملوں کو نشانہ بنایا۔ ان میں عراقی صوبے انبار میں 3 اور شام میں 2 مقامات شامل ہیں۔
پینٹاگان کے مطابق یہ فضائی حملے عراق میں ایک امریکی دفاعی ٹھیکے دار کی ہلاکت کے بعد کیے گئے۔