.

موسوی نے شام میں ایرانی فورسز کی نقل و حرکت کی مخبری کی تھی: تہران کا یُوٹرن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران حکومت نے اپنے سابقہ بیان کو بدلتے ہوئے کہا ہے کہ محمود موسوی مجد جس کو کچھ عرصہ پہلے سزائے موت سنائی گئی ہے، اس کا ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سے قبل تہران نے موسوی پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے قاسم سلیمانی کی نقل و حرکت کے بارے میں جاسوسی کی۔

ہفتے کے روز ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے کہا کہ "محمود موسوی مجد کے القدس فورس اور اس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے ساتھ تعلقات تھے۔ موسوی پر الزام ہے کہ اس نے شام میں ایرانی فورسز کی نقل و حرکت کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس سی آئی اے اور اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کو معلومات پیش کیں"۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی "اِسنا" کے مطابق موسوی کا معاملہ 2018 اور 2019 کا ہے۔ مزید یہ کہ اس معاملے میں دیگر ملزمان بھی ہیں۔ موسوی کے خلاف فیصلہ صادر ہوا اور اس کی توثیق بھی ہو چکی ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ موسوی کی گرفتاری کا تعلق سلیمانی کی ہلاکت سے نہیں بلکہ شام میں سلیمانی کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات پیش کرنے کے سبب عمل میں آئی۔

اِرنا کے مطابق ملزم موسوی اور اس کے گھر والے شام میں مقیم ہیں۔ وہ وہاں ایرانی فورسز کے ساتھ کام کرتا تھا۔ اس نے مذکورہ فورسز کی سرگرمیوں اور ایرانی وزارت دفاع کے بارے میں معلومات اکٹھا کیں اور انہیں دشمن کو پیش کر دیا۔

ایران میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان کے زیر انتظام ایجنسی "ہرانا" نے جمعرات کے روز اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ محمود موسوی مجد لبنان میں امریکی یونیورسٹی میں ماسٹرز کا طالب علم تھا۔ حزب اللہ نے 2018 میں اسے گرفتار کر کے ایران کے حوالے کر دیا تھا۔

تاہم ٹویٹر پر ایک نئے اکاؤنٹ پر دعوی کیا گیا ہے کہ یہ اکاؤنٹ موسوی کے ایک عزیز کا ہے۔ اکاؤنٹ پر موسوی کے خلاف عائد الزامات کو مسترد کیا گیا ہے اور ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی جاری کی گئی ہے۔ ریکارڈنگ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ موسوی کی آواز ہے۔ یہ ریکارڈنگ ایفین جیل سے اِفشا ہوئی ہے جہاں موسوی زیر حراست ہے۔ آڈیو ریکارڈنگ میں موسوی کا کہنا ہے کہ کہ "وہ ایرانی نظام ، انقلاب اور رہبر اعلی کا مخلص سپاہی ہے اور سلیمانی کی جاسوسی کے حوالے سے مجھ پر جو بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ جھوٹے اور بے بنیاد ہیں"۔

موسوی نے مزید کہا کہ میں 10 ستمبر 2018 سے گرفتار ہوں، لہذا میں نے سلیمانی کے مقام کو کس طرح اِفشا کر دیا جب کہ وہ 3 جنوری 2020 کو ہلاک ہوا ہے؟

موسوی نے ٹیپ میں مطالبہ کیا کہ اس کے خلاف مقدمے میں منصفانہ کارروائی کو یقینی بنایا جائے اور اسے اپنے وکیل سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔