کرپشن اور بد انتظامی سانحہ بیروت کا اصل سبب ہے: لبنانی وزیراعظم
حسان دیاب کا سانحہ قبل از وقت انتخابات پر زور
لبنان کے وزیراعظم حسان دیاب نے دارالحکومت میں ہفتے کے روز ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد مظاہرین کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت ایک ایسے المیے سے گذر رہا ہے جس نے پورے ملک پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں لبنان مزید افراتفری اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تمام سیاسی قوتوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے ملک کو درپیش سانحے کے اثرات سے باہر نکالنے میں مدد کرنا ہو گی۔ انہوں نے قبل از وقت انتخابات کی ضرورت پربھی زور دیا۔
مباشر من #العربية | تظاهرت في #لبنان للمطالبة بمحاسبة المسؤولين عن #انفجار_بيروت #مرفأ_بيروت #بيروت https://t.co/cY7L8jFMyy
— ا لـ ـعـ ـر بـ ـيـ ـة (@AlArabiya) August 8, 2020
حسان دیاب کا کہنا تھا کہ بیروت دھماکے بد انتظامی اور سال ہال سال کی کرپشن کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کو دو ماہ میں اتفاق رائے سے قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کرنا ہو گا۔ اس وقت تک حکومت اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ قبل از وقت انتخابات کا مسودہ قانون جلد کابینہ میں پیش کریں گے۔
وزیراعظم حسان دیاب نے کہا کہ لبنان اس وقت ہنگامی حالات سے گذر رہا ہے۔ موجودہ بحران کا واحد قبل از وقت پارلیمانی انتخابات ہیں۔
صور مباشرة لصدامات عنيفة بين المتظاهرين وقوى الأمن ينقلها مراسل #العربية في #بيروت محمود شكر من فندق بالقرب من البرلمان اللبناني أصيب خلالها أحد عناصر الأمن بإصابة خطيرة#انفجار_بيروت pic.twitter.com/QWbIFePFCs
— ا لـ ـعـ ـر بـ ـيـ ـة (@AlArabiya) August 8, 2020
خیال رہے کہ لبنانی وزیراعظم کی طرف سے یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف کل ہفتے کے روز کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے صدر میشل عون اور وزیراعظم حسان دیاب کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور اڑھائی سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔