سعودی عرب اور بھارت میں دوطرفہ تجارتی حجم 33 ارب ڈالرسے متجاوز: بھارتی سفیر
سعودی عرب میں تعینات بھارتی سفیر نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 33 ارب ڈالر سےتجاوز کر گیا ہے۔
بھارتی سفیر ڈاکٹر اوصاف سعید نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر سعودی عرب میں جمہوریہ ہند کے سفیر ڈاکٹر اوصاف سعید نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی گہرائی بہت مضبوط ہے۔ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ حقائق اور اعداد وشمار اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارتی تبادلے کا حجم فی زمانہ 33 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اس وقت ایک اہم ترین ملک ہے۔ان کا ملک خلیجی خطے، شرق اوسط اور شمالی افریقہ میں مضبوط سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سعودی عرب ان میں اہم ترین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر قیادت آج سعودی عرب میں ادارہ جاتی کام ایک اچھی علامت ہے۔ یہی وجہ سے ہم اپنے معاشی، سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں پر اپنے مستقبل کے کام کی بنیاد رکھتے ہیں۔
دونوں ممالک کے مابین تجارتی تبادلہ
ڈاکٹر اوصاف نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور بھارت کے مابین تجارتی حُجم بہت اچھا اور صحت مند ہے۔ چین، امریکا اور متحدہ عرب امارات کے بعد سعودی عرب ہندوستان کا چوتھا تجارتی شراکت دار ہے۔ فی الحال تجارتی تبادلے کا حجم تینتیس ارب اور ہندوستان کی سعودی عرب کی برآمدات چھ ارب ڈالر سے تجاوز کر رہی ہیں۔
دونوں ممالک میں تجارتی لین دین، درآمدات اور برآمدات گذشتہ تین سے چار سالوں میں مستقل مزاجی سے جاری ہیں۔ ہمارے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب ہندوستان کے لئے انتہائی قابل اعتبار شراکت دارہے۔ سعودی عرب ہماری 19 فیصد خام تیل کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی اہم فیگر ہے ۔بھارت اس وقت بہت سی غذائی اشیا کی فراہمی کے ذریعہ فوڈ سکیورٹی کے معاملے میں سعودی عرب پر انحصار کرتا ہے۔ بھارت سعوی عرب کو چاول کی بڑی مقدار فراہم کرتا ہے۔
کرونا وائرس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وبائی امراض نے دنیا کے تمام ممالک کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج کھڑا کیا۔ یہ ہندوستان، ہمسایہ ممالک اور مشرق وسطی کے ممالک کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس مرحلے پر سعودی عرب کی طرف سے بھارت کو آکسیجن کونسیٹرس، سلنڈر اور کنٹینر کی شکل میں طبی امداد فراہم کی گئی۔ سعودی عرب کی طرف سے بھارت کو دی جانے والی طبی امداد خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی بھارتی عوام کے ساتھ ہمدری اور خیر سگالی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈکٹر اوصاف سعید نے مزید کہا سعودی عرب نے تقریبا 300 میٹرک ٹن آکسیجن اور 6000 آکسیجن سلنڈر فراہم کیے۔ ادویہ اور خوراک کا سامان اس کے علاوہ ہے۔
-
سعودی عرب کی انسانی ہمدردی کے تحت بھارت کو100 کنٹینر طبی سامان کی فراہمی
سعودی عرب نے بھارت کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں دفن ہو جانے والے بھارتی ہندو کے گھرانے کا میت کی واپسی کا مطالبہ
سعودی عرب میں ذرائع نے بتایا ہے کہ مملکت میں اسلامی طریقے سے دفن کر دیے جانے والے ...
صفحة اول -
'سعودی عرب ۔ امارات، بھارت میں 70 ارب ڈالر کی لاگت سے آئل ریفائنری تعمیر کریں گے'
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے باہمی تزویراتی شراکت کے تحت بھارت میں تیل صاف ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب اور بھارت آبی گذر گاہوں کی سیکورٹی یقینی بنانے پر متفق
سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے منگل کے روز بھارتی ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں ’’سافٹ پاور‘‘ نے پاکستانی اور بھارتیوں کو اکٹھا کر دیا
پاکستانی گلوکاروں عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان نے ریاض سیزن کے تحت دارلحکومت میں ...
پاكستان -
پاکستان اور بھارت جموں وکشمیر کا تنازع پرامن طریقے سے حل کریں: سعودی عرب
برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے کہا ہے کہ خطے میں امن واستحکام کی حفاظت اور کشمیریوں ...
پاكستان -
سعودی عرب کی پاکستان کو بھارت سے کشیدگی کے خاتمے کے لیے مکمل حمایت کی یقین دہانی
عادل الجبیر کی وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات ،خطے کی ...
پاكستان -
پاک ۔ بھارت کشیدگی کم کرنے میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا: پاکستان
پاکستانی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے پاک ۔ بھارت ...
پاكستان -
بھارت اور سعودی عرب انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر متفق
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور بھارت کے ...
بين الاقوامى -
بھارت اور سعودی عرب کے تاریخی تعلقات کا جائزہ
بھارت اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کی تاریخی برسوں پرمحیط ہے۔ دونوں دوست ملکوں کے ...
مشرق وسطی