اسرائیل کی حکومت نے ایتھوپیا کے تین ہزار شہریوں کے لیے "فوری" ہجرت کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ "مسلح تنازع کے سبب مشرقی افریقا میں واقع ملک کے ان شہریوں کی جانوں کو خطرہ ہے"۔
اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دفتر کی جانب سے اتوار کے روز جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ نے تین ہزار ایتھوپی شہریوں کے لیے "فوری" ہجرت کر کے اسرائیل آنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان افراد کے نہایت قریبی رشتے دار اور متعلقین اسرائیل میں رہتے ہیں۔
اسرائیل کی خاتون وزیر ہجرت بنینا تامانو نے جو خود ایتھوپیا میں پیدا ہوئیں، اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے بیرون رہنے والا ہر یہودی "واپسی کے قانون" سے مستفید ہو سکتا ہے۔ اس قانون کے تحت ہر یہودی کو اسرائیل ہجرت کرنے اور خود کار طور پر وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ البتہ ایتھوپیا کی "فلاش مورا" کمیونٹی اس قانون سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی ہے۔ فلاش مورا کی اصطلاح ایتھوپیا کے اُن یہودیوں کے واسطے استعمال کی جاتی ہے جنہوں نے انیس ویں اور بیس ویں صدی میں مجبورا نصرانی مذہب اختیار کر لیا تھا۔
اسرائیل میں ایتھوپیائی نژاد افراد کی تعداد 1.4 لاکھ سے زیادہ ہے۔ حالیہ برسوں میں ان افراد نے اسرائیل میں خود کو درپیش نسلی امتیاز کی مذمت میں سلسلہ وار احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ایتھوپیا میں رہ جانے والے اُن کے خاندان کے افراد کو اسرائیل آنے کی اجازت دی جائے۔
-
یواے ای کے بعد مصراوراسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بہتری کےاقدامات زیرغور ہیں: ترک صدر
ترک صدررجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک متحدہ عرب امارات کی طرح ...
بين الاقوامى -
حماس کا اسرائیلی صدر کے الخلیل کے متنازع دورے پر انتباہ
حماس نے اسرائیلی صدراسحاق ہرتصوغ کے یہود کے مذہبی تیوہارحانوکا کے موقع پرمقبوضہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کے ضخیم منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا ؟
اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی حکومت نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو ...
بين الاقوامى