سعودی عرب: کالج کے کچن میں ککنگ کرتے طالب علم سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کے ایک کالج کے طالب علم ماجد کاھل کی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر اور اس کے ساتھ ککنگ پر تبصرے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

اس تصویر میں ٹورزم اور مہمان نوازی کے شعبے کے طالب علم ماہرکال کوکالج کے ایک باورچی خانے میں ککنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے اس کی اس تصویر پر اس کی حمایت اور مخالفت دونوں میں رائے سامنے آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ماجد کاہل نے کہا کہ باورچی خانہ مہمان نوازی کے انتظام کے اہم عناصر میں سے ایک ہے، کیونکہ طالب علم کھانا پکانے کی تربیت سے گذرتا ہے اور اسے کھانا مہمانوں کو پیش کرنے کے پروٹوکول کی جان کاری بھی ملتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آج کل مردوں کے لیے کچن میں کام کرنا غلط نہیں ہے۔ البتہ ماضی میں اسے معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اس شعبے میں ملازمت کے مواقع بہت زیادہ ہیں۔"

انہوں نے واضح کیا کہ سعودیوں کے لیے مہمان نوازی کو غیر ملکی نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہ اپنی سخاوت اور مہمانوں کے اچھے استقبال کے لیے مشہور ہیں۔

مختلف ثقافتوں سےمیل جول

گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے ماجد کاھل نے نشاندہی کی کہ طلباء کلاس رومز میں تعلیمی نقطہ نظر سے مختلف ثقافتوں اور لوگوں کے ساتھ پیشہ ورانہ طریقے سے نمٹنے کے طریقے سیکھتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی "مہمان نوازی" کا انتخاب ان کی شخصیت کی وجہ سے ہے جو کہ مستقل اور مناسب فیصلہ ہے۔ کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ عملیت پسند افراد ایسے شعبوں کے لیے موزوں ہیں۔

ماجد کاھل نے مزید کہا کہ جو چیزاس حوالے سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ یہ سعودی وژن 2030 کےاہداف کے مطابق ہے۔ یہ خطہ دنیا بھر سے سیاحوں اور زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ طلباء کو آداب سکھائے جائیں اورانہیں بین الاقوامی مہمان نوازی کے اصولوں سے آگاہ کیا جائے۔

"مجھے ککنگ پسند ہے"

کاہل نے کہا کہ میں ذاتی طورپر باورچی خانے سے محبت کرتا ہوں۔حالانکہ اس میں بہت سے سامان کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ تیاری اس موقع سے ایک دن پہلے شروع ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ باورچی خانہ فرد کو ایک ٹیم کے اندر بدلنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے مدد کرنے کی جبلت پیدا ہوتی ہے وہ سبزیاں کاٹ کر اور کھانا پکا کر باورچی کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔

اسی طرح سعودی نوجوان کا ماننا ہے کہ وہ کھانے پینے کی اشیاء سے نمٹنے کے فن میں زیادہ تخلیقی ہے کیونکہ اس کے کام کے نتیجے میں اس میں جوش و خروش کے جذبات جھلکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں