فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی فوج کی جانب سے طلوع آفتاب سے قبل چھاپوں کے دوران فلسطینی نوجوانوں سے جھڑپ کے دوران ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔
فلسطینی تنظیم 'فلسطین ہلال احمر' کے مطابق اسرائیلی فوج کی جارحیت کے دوران کم از کم 30 فلسطینی زخمی ہوگئے جن میں سے چار افراد کو گولی مار کر زخمی کیا گیا ہے۔
فلسطین کے ایمرجنسی طبی عملے کے مطابق مغربی کنارے کے سب سے بڑے مہاجر کیمپ بلاطہ سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ وسیم خلیفہ کو اسرائیلی فوج کی جانب سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اس نے جان جان آفریں کے سپرد کی۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب آبادکاروں کا ایک گروپ مزار یوسف پر تلمودی رسومات کی ادائی کے لئے آیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج پر فلسطینی مزاحمت کاروں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تصادم کا سلسلہ شروع ہوا۔
گزشتہ ہفتے کے دوران اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں نابلس میں تین فلسطینی مزاحمت کار شہید ہوگئے تھے۔
اس کارروائی کے بعد اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا جس میں بچوں سمیت کم از کم 49 فلسطینی شہری شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق غزہ سے قریبا ایک ہزار راکٹ اسرائیل کی جانب داغے گئے تھے۔
-
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی کا قتل
محمد الشہام کو فوجیوں نے سر میں سیدھی گولی ماری، والد کا موقف
مشرق وسطی -
اسرائیل اور فلسطینیوں میں سیاسی مذاکرات کرائے جانا ضروری ہیں: بین الاقوامی ریڈ کراس
اسرائیل اور غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کا فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حملے بند کرنے کا مطالبہ
منگل کو سعودی پریس ایجنسی نے سعودی کابینہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت ...
مشرق وسطی