شام میں العربیہ چینل کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے بُدھ کی شام حلب کے ہوائی اڈے پر بمباری کی ہے۔ اس بمباری سے کچھ دیر قبل ایران کا ایک کارگو طیارہ اترا تھا جو پاسداران انقلاب کا طیارہ بتایا جا رہا ہے۔ادھر دمشق کے ہوائی اڈے پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ ان حملوں کا مقصد حلب میں دو ایرانی طیاروں کی لینڈنگ کو روکنا تھا۔
صور متداولة لانفجارات جراء قصف على مطار حلب
— العربية (@AlArabiya) August 31, 2022
#العربية pic.twitter.com/mOyW4XCpqk
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا تھا کہ 4 اسرائیلی میزائلوں نے حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ایک رن وے اور اس کے آس پاس کے گوداموں کو نشانہ بنایا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور دھماکے ہوئے۔ یہ دھماکے ممکنہ طور پر ایرانی میزائل کی کھیپ میں ہوئے۔
شامی خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ فوج کے فضائی دفاع نے دمشق کی فضا اور اس کے دیہی علاقوں میں اسرائیلی حملے کا جواب دیا اور وہ ان میں سے متعدد میزائل مار گرانے میں کامیاب ہو گئی۔
ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی میزائلوں کا سامنا دمشق بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سڑک، دمشق درعا شاہراہ اور دمشق کے جنوب میں واقع کسوہ شہر کے آس پاس کے علاقوں میں ہوا۔
مراسل #العربية زياد حلبي: أنباء عن هبوط طائرة الشحن الإيرانية في #دمشق بعد أن منعت من الهبوط بــ #حلب pic.twitter.com/rLHnKLAYu7
— العربية (@AlArabiya) August 31, 2022
شامی میڈیا نے بعد میں حلب کے ہوائی اڈے پر بمباری کی تصدیق کی، لیکن کہا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ مادی نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنانے کا واقعہ ایرانی "ماہان ایئر" کے ایک کارگو طیارے کی لینڈنگ سے قبل پیش آیا۔ بمباری سے رن وے لینڈنگ کے قابل نہ رہا جس کے بعد وہ دمشق ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں بھی ایرانی طیارے کا تعاقب کیا گیا اور ہوائی اڈے پر بمباری کی گئی۔