سعودی وزارت صحت نے بزرگوں اور بچوں میں انفیکشن کی پیچیدگیوں کو کم کرنے کے لیے موسمی انفلوئنزا کے ٹیکے لگانے کا مشورہ دیا ہے۔وزارت صحت نے وضاحت کی کہ بوڑھے اور بچے موسمی انفلوئنزا اور اس کی پیچیدگیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروہوں میں شامل ہیں۔ اس لیے ان کی حفاظت کے لیے ویکسین لگانا ضروری ہے۔
سعودی وزارت صحت نے حال ہی میں ’’ دا موومنٹ یو وش‘‘ کے نعرہ کے تحت موسمی انفلوئنزا کے خلاف ویکسین پلانے کے لیے ایک آگاہی مہم کا آغاز کردیا ہے جس میں سب سے زیادہ متاثرہ گروہوں جیسا کہ بوڑھے، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد، قوت مدافعت کی کمی و الے افراد، حاملہ خواتین اور ہیلتھ ورکرز کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا گیا ہے۔ وزارت نے کہا یہ ویکسینیشن محفوظ ہے اور اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں۔ اس کی افادیت دنیا کے تمام ممالک میں کئی سالوں سے ثابت ہو چکی ہے۔
وزارت صحت نے وضاحت کی کہ انفلوئنزا سے بچاؤ ویکسین لینے، پرہجوم جگہوں سے گریز، ہاتھ اچھی طرح دھونے، آنکھوں اور منہ کو براہ راست چھونے سے گریز، چھینک یا کھانستے وقت ٹشو پیپر ز کے استعمال اور جگہ کی صفائی کو یقینی بنانے میں مضمر ہے۔ اس مہم کے ذریعہ وزارت صحت ویکسین شدہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
سعودی وزارت صحت نے شہریوں کو موسمی انفلوئنزا کی ویکسی نیشن کرانے کی ہدایت کی اور اس ضمن میں ویکسین سروس کے لیے ’’صحتی‘‘ ایپ کے ذریعہ بکنگ کرانے کا کہا۔ وزارت نے کہا ویکسی نیشن اس اس بیماری کے انفیکشن سے 70 سے 90 فیصد تک حفاظت فراہم کردیتی ہے۔