ایران وسعودی عرب

ایران، سعودی عرب کا سفارت خانے دوبارہ کھولنے اور پروازوں کی بحالی پر اتفاق

ریاض اور تہران وزرائے خارجہ نے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں دونوں فریقوں نے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ملاقات کی، جس کے دوران خطے میں سکیورٹی اور استحکام لانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا گیا۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیرعبداللہیان کے درمیان جمعرات کو ہونے والی ملاقات سات سال سے زائد عرصے میں دونوں ملکوں کی اعلیٰ ترین سطح پر پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں دونوں فریقوں نے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں فریقوں نے بیجنگ معاہدے پر عمل درآمد اور اس کے فعال ہونے کی اہمیت پر زور دیا جس سے باہمی اعتماد اور تعاون کے شعبوں کو وسعت ملے اور خطے میں سلامتی، استحکام اور خوشحالی پیدا کرنے میں مدد ملے۔‘

اعلامیے میں کہا گیا کہ ’سعودی عرب اور ایران نے دو ماہ کے اندر دونوں ملکوں میں سفارت خانے کھولنے پر اتفاق کیا۔‘

مزید کہا گیا کہ ’دونوں ممالک تعاون کو بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لینے کے لیے ہم آہنگی جاری رکھیں گے، جن میں پروازوں کے دوبارہ آغاز اور دوطرفہ دوروں کے علاوہ شہریوں کے لیے ویزوں کی سہولت فراہم کرنا شامل ہیں۔‘

اس سے قبل سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن ’’الاخباریہ‘‘ نے بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے چین میں متعین سفیر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

جمعرات کی علی الصبح ’ٹوئٹر‘ پر ایک مختصر ویڈیو کلپ میں دونوں وزراء نے ایک ساتھ بیٹھنے سے پہلے مصافحہ کیا۔ یہ ملاقات خوش گوار ماحول میں ہوئی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’ایرنا‘ نے ویڈیو کلپس نشر کیے ہیں جن میں دونوں وزراء کو کیمروں کے سامنے ہاتھ ملاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری سعودی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے "ایک وسیع ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے وفود بھی شامل تھے‘‘۔ دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعاون اور معاہدوں کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا۔"

ذرائع نے حال ہی میں بتایا تھا کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان جمعرات کو بیجنگ میں ملاقات کریں گے۔

اخبار’الشرق الاوسط‘ کے مطابق اس ملاقات میں گذشتہ ماہ اعلان کردہ تعلقات کی بحالی کے لیے معاہدے کے مواد کو فعال کرنے اور سفیروں تبادلے کے طریقہ کار پر بات کی جائے گی۔

اخبار کے مطابق سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کے لیے چین کا انتخاب ایک معاہدے تک پہنچنے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے میں سہولت فراہم کرنے میں بیجنگ کے مثبت کردار کی توسیع کا حصہ ہے۔

ذرائع کے مطابق بیجنگ میٹنگ سے قبل دونوں وزراء کے درمیان 3 بار رابطے ہوئے، جس میں معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اگلے اقدامات، مشنز کو دوبارہ کھولنے کا طریقہ کار اور سابقہ معاہدوں کو فعال کرنے پر گفتگو کی گئی۔

سعودی عرب اور ایران نے چینی سرپرستی میں اپنے سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک اور چین نے 10مارچ کو ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا تھا کہ معاہدے پر 60 دن کے اندر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔

سہ فریقی بیان میں ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور ان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تمام مشترکہ معاہدوں کو فعال کرنے کی بھی توثیق کی جن میں سکیورٹی تعاون کے معاہدے، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، سائنس، ثقافت، کھیل اور نوجوانوں کے شعبے میں تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں