تونس میں پانی کی کمی کے چیلنج سےنمٹنے کے لیے "فصلوں کی زمین سے باہر کاشت" کا تجربہ

ماہرین: "نئی ٹیکنالوجی امید افزا ہے، لیکن اس میں کسانوں کی ناخواندگی، مرضی کی عدم موجودگی اور تکنیکی تحقیق کو محدود کرنے والے قوانین کی وجہ سے رکاوٹ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی کمی تونس میں خوراک کی ہنگامی صورت حال کی پیش گوئی کرتی ہے۔ اناج کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب اور روس ۔ یوکرین جنگ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کے بعد ماہرین کو درمیانی مدت میں متبادل حل تلاش کرنے پرمجبور ہونا پڑا۔ چونکہ تونس میں زرعی شعبہ خوراک کی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد حصہ بناتا ہے اور یہ شعبہ پہلے ہی پانی کے وسائل کی کمی کے خطرات سے دوچار ہے۔ اس لیے وہاں کے ماہرین زراعت نے فصلوں کی کاشت کا ایک نیا طریقہ اپنایا ہے۔ اس تکنیک کے تحت زمین سے باہر غیر روایتی طریقے سے فصلوں کی کاشت کرنا ہے۔


تونس میں ماہرین نے ’زمین سے باہر فصلوں کی کاشت‘ کے تجربے کو امید افزاء قرار دیا ہے۔

"زمین سے باہر کاشت" تکنیک ان متبادل طریقوں میں سے ایک ہے جسے پانی کی کمی سے نمٹنے اور پائیدار زراعت کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو بند راستے میں پانی کی ری سائیکلنگ پر انحصار کرتی ہے جسے ضروری معدنی نمکیات فراہم کی جاتی ہیں۔ پودے کو سپورٹ کے ذریعے ٹھیک کیا جاتا ہے اور آکسیجن مصنوعی وینٹیلیشن کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔

پانی میں معیشت

"ایکسٹرا سوائل ایگریکلچر" پروجیکٹ کو تونس کی یونین آف ایگریکلچر اینڈ فشریز کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے۔ پروجیکٹ کے تکنیکی کوآرڈینیٹر سلیم زواری "انڈیپنڈنٹ عربیہ" کو بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ "زرعی شعبہ پانی کے وسائل کا سب سے بڑا حصہ استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تونس میں پانی کی کمی کا شکار ہے، جو اس جدید زراعت کے استعمال کی ناگزیر ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔

زواری نے مزید کہا کہ "تونس کو موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنج کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں زرعی مواد کی قلت پیدا ہوئی اور دنیا کو بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ماہرین خوراک فراہم کرنے کے لیے اختراعی طریقے تلاش کرنے پر غور کررہے ہیں۔

یہ پروجیکٹ "اٹلی کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کے فریم ورک کے اندر اور تونس کے کئی تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت میں شروع کیا گیا۔ تونس کی یونین آف ایگریکلچر اینڈ فشریز کی نگرانی میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ زراعت کا ایک ایسا ماڈل ہے جس میں ماحولیاتی معیارات کا احترام کیا ہے۔ ساتھ ہی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size