اسرائیلی طیارے کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے بعد نیتن یاہو کا شکریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بحر ہند کے جزیرے ملک سیچلس سے اسرائیلی شہریوں کو واپس لے جانے والے ایک طیارے نے منگل کو ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی۔

اسرائیل نے سعودی عرب کی مہمان نوازی کی خیر سگالی کی علامت کے طور پر تعریف کی۔

128 مسافروں کو لے جانے والے ایئر سیچلس کی پرواز کو پیر کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے لینڈنگ پر مجبور کیا گیا۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ مسافروں نے رات جدہ کے ہوائی اڈے کے ہوٹل میں گزاری اور انہیں اگلے روز ایئر لائن نے متبادل طیارے سے واپس بھیج دیا۔

مسافروں نے بعد میں اپنے تاثرات میں خوفناک وقت بیان کیا کہ جب کیبن میں جلنے کی تیز بو آئی اور پائلٹ نے انٹرکام پر یہ کہا کہ طیارے کو سعودی عرب میں ہنگامی طور پر رکنے پر مجبور کیا جائے گا، ایک ایسا ملک جس کے ساتھ اسرائیل کے کوئی فضائی روابط یا سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

مسافروں نے بتایا کہ لینڈنگ کے بعد جہاز میں درجنوں افراد کے پھنسے رہنے سے تناؤ بڑھ گیا، جب کہ عملے کے لوگ یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ مگر جلد ہی سعودی سیکورٹی فورسز نے اسرائیلی مسافروں کو ایک ہوٹل تک پہنچا دیا۔

"یہ بہت خوفناک تھا،" مسافر مایاما سٹہل نے یاد کیا جب وہ منگل کے آخر میں درجنوں دیگر لوگوں کے ساتھ اسرائیل کے بین گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے سے باہر نکلیں۔

"لیکن ہم سب کا بہت اچھا استقبال کیا گیا ۔۔ ہم یہ دیکھ کر بہت پرجوش تھے کہ ہم ٹھیک اور محفوظ ہیں۔"

دیگر مسافروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جدہ میں ان کا تجربہ خوشگوار تھا۔

اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سرکاری تعلقات نہیں ہیں۔ مگر 2022 میں، سعودی عرب نے صدر جو بائیڈن کے مملکت کے دورے کے دوران اسرائیلی پروازوں پر سے پابندی ہٹا دی تھی۔

سابق ٹرمپ انتظامیہ کے تحت 2020 میں اسرائیل کے چار عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدوں کے بعد، بائیڈن سعودی عرب کے ساتھ اسی طرح کا معاہدہ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، نے سعودی عرب کے ساتھ ایک معاہدے کو ایک بڑا ہدف بنایا ہوا ہے۔

انہوں نے اپنے پیچھے خطے کے نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عربی سب ٹائٹلز کے ساتھ عبرانی زبان میں ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا، ’’میں اسرائیلی مسافروں کے ساتھ سعودی حکام کے گرمجوشی کے رویے کی بہت تعریف کرتا ہوں۔‘‘ "میں اچھی ہمسائیگی کی بہت تعریف کرتا ہوں۔"

سعودی عرب کے حکام نے اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں