فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی طرف سے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل کے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے والے جرمن چانسلر، ان کے ساتھ آیا وفد اور صحافی خوف کے مارے زمین پر لیٹ گئے۔
اس عجیب وغریب واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جرمن چانسلر اولاف شولز، ان کا عملہ اور ان کے وفد کے ساتھ موجود صحافیوں کو طیارے سے اترنے کے بعد زمین پر لیٹنے پر مجبور کیا گیا۔ پھر وہ رینگتے ہوئے آگے بڑھنے اور راکٹوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔
الارم سائرن بجنے کے بعد تل ابیب ایئرپورٹ کے فرش پر لیٹے ہوئے جرمن چانسلر کی اسرائیل کے دورے کے دوران ایک ویڈیو کلپ تیزی سے وائل ہو رہا ہے۔
Dear oh dear. German chancellor Scholz, his staff and embedded journalists forced to get off the plane, crawl down and lie on the ground due to rockets shot towards Ben Gurion airport in Tel Aviv. pic.twitter.com/yv6ipXX38J
— Antonello Guerrera (@antoguerrera) October 17, 2023
اس ویڈیو کو بار بار سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو کلپ کو کئی پیجز پر شیئر کیا گیا اور اس میں سینیر اہلکار اور ان کے ساتھیوں کو فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے خوف کی وجہ سے زمین پر پڑے ہوئے دکھایا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ شولز نے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کا دورہ اسرائیل کے لیے جرمنی کی حمایت کا حصہ ہے۔
انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا کہ "میرا اسرائیل کا دورہ دوست ملک کے لیے ہے۔ جرمنی مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔"
اس سے قبل جرمن چانسلر اولاف شولز نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس کے دوران انہوں نے غزہ کے تنازعے کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔