سعودی عرب سمیت خلیجی عرب ریاستوں نے پیر کے روز یمن کے متحارب فریقین کی طرف سے جنگ بندی کی طرف قدم اٹھانے اور اقوامِ متحدہ کی قیادت میں امن مذاکرات میں شامل ہونے کے نئے وعدوں کا خیرمقدم کیا۔
اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈ برگ کے اعلان کردہ وعدوں نے ایک خونریز تنازعہ کو ختم کرنے کی تازہ ترین کوشش کی نشاندہی کی جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے اور دنیا کا ایک بدترین انسانی المیہ پیدا ہوا۔
جزیرہ نما عرب کا غریب ترین ملک 2014 میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے صنعا پر قبضے کے بعد سے جنگ کی لپیٹ میں ہے جس سے اگلے سال حکومت کی حمایت میں عرب قیادت میں فوجی مداخلت شروع ہو گئی۔
اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی سے اپریل 2022 میں دشمنی میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ جنگ بندی کی میعاد گزشتہ سال اکتوبر میں ختم ہو گئی تھی البتہ لڑائی کافی حد تک رکی ہوئی ہے۔
سعودی عرب نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ہفتے کے روز اقوامِ متحدہ کے "امن کے راستے کی حمایت کے لیے روڈ میپ" کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔
اس کی وزارت خارجہ نے یمن کے متحارب فریقین کو "مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع اور دیرپا سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے" حوصلہ افرائی کی۔
معاون ثالث عمان نے بھی اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ "جلد از جلد ایک معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔"
قطر نے امن کے لیے اقوامِ متحدہ، سعودی عرب اور عمان کا شکریہ ادا کیا اور متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ ایک معاہدے پر پہنچنے کی کوششیں تیز کریں۔
-
یمنی حوثی بھی اسرائیل اور حماس کی جنگ بندی پر عمل کریں گے: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا ہے کہ یمنی حوثی بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ...
مشرق وسطی -
یمن میں سیاسی عمل کی بحالی کیلئے سعودی کوششیں قابل تعریف: سربراہ یمنی صدارتی کونسل
یمن کی صدارتی قیادت کی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے آج اتوار کو یمن میں جنگ ...
مشرق وسطی -
جہازوں پرحوثی حملوں میں ایران ملوث نہیں: ایران
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز امریکی الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ...
مشرق وسطی