سعودی عرب:’بدوی مارکیٹ‘ جس کی شان وشوکت ایک صدی بعد بھی تازہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے تاریخی شہر جدہ کی ’بدوی مارکیٹ‘ کا شمار مملکت کے قدیم ترین بازاروں میں ہوتا ہے۔ یہ مارکیٹ آج سے ایک سو سال پہلے بھی گاہکوں کی توجہ مرکز تھی اور آج بھی اس کی روایتی گہما گہمی بدستور موجود ہے۔

’بدوی مارکیٹ‘ میں ویسے تو ہرقسم کے سامنا کی دکانیں موجود ہیں مگر بازار میں ملبوسات بالخصوص لیڈیز گارمنٹس، خواتین کے روایتی ملبوسات، عطریات، "ہیئر کینڈی" جسے "برقعے" کے متبادل کے لیے استعمال کیا جاتا جیسی مصنوعات زیادہ فروخت کی جاتی ہیں۔ ملبوسات کے حوالے سے یہ مارکیٹ سعودی عرب کے مغربی علاقوں کی سب سے مشہور اور بڑی مارکیٹ ہے۔

ایک صدی پرانی یادگار

’بدوی مارکیٹ‘ دراصل صحرائی لوگوں کی ضرورت کے سامنا کا مرکز تھی۔ مگر اب ان دنوں ہر طرح کی دکانوں میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اب اس میں عام طور پرخواتین کے کپڑے فروخت کرتے ہیں۔ کپڑوں کی ورائٹی اور مختلف اقسام کے لحاظ سے ان کی قیمتوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ بعض کپڑے 15 ریال میٹر سے شروع ہوتے ہیں جب کہ بعض کپڑوں کی قیمت 35 ریال ایک میٹر تک ہوتی ہے۔ بعض ملبوسات اس سے بھی مہنگے ہوتے ہیں۔

جدہ میں بدوی بازار
جدہ میں بدوی بازار

مارکیٹ میں تانبے اور لوہے کے برتنوں کی دکانیں جدید طرز کے برتنوں اور برتنوں کی مرمت کی دکانوں میں بدل گئی ہیں۔ کسی دور میں اس بازار میں تیل کی اشیاء کے علاوہ شہد، گھی، مکھن اور اور دیگر اشیاء کی دکانیں موجود تھیں۔

بزار پرانا ہے مگر اب اس میں جدت آ رہی ہے۔ کئی پرانی دکانیں اب بڑے اسٹوروں میں بدل گئی ہیں۔

"ایک عوامی بزار"

ایک ٹیکسٹائل فروش احمد بقیس اس جگہ کے کچھ رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ "ہماری مارکیٹ ایک عوامی بازارہے۔ ہم اس میں خوش ہیں۔ اس کے لیے بازار ایک پناہ گاہ بن گیا ہے جہاں وہ اپنی جوانی کے بعد سے روزانہ آتے ہیں۔ یہ بازار ہماری یادوں کا مرکز ہے اور اس سے منسلک ہماری جوانی کی یادیں کبھی نہیں بھولتیں‘‘۔

دوپہر کو وہ بدو بازار میں اپنی دکان پر آتا ہے اور رات دس بجے دکان کو بند کرتا ہے۔

کپڑے کے تاجر احمد باقیس
کپڑے کے تاجر احمد باقیس

انہوں نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ خوف ثقافتی حالات میں آنے والی تبدیلیوں سے ہے جنہوں نے اپنی حقیقت کو نئی نسل پر مسلط کر دیا ہے، جن میں سے کچھ ان کی رائے کے مطابق ورثے اور عوامی مفادات کے مسائل میں عدم دلچسپی کا شکار ہو گئے ہیں۔

"بدوی مارکیٹ" کیا ہے؟

یہ بات قابل ذکر ہے کہ "بدوی مارکیٹ" گاؤں کے مکینوں اور بدؤوں کا پہلا پڑاؤ ہے جو سو سال قبل جدہ کے تاریخی علاقے کی پرانی دیوار کے باہر سے اپنا سامان خریدنے کے لیے آتے تھے۔

سینہ بہ سینہ گردش کرتی معلومات کے مطابق خرید و فروخت کا عمل اسی بازار میں اس دور میں ہوا جو چاندی ریال اور سونے کے پاؤنڈ سے ہوتا تھا۔

بازار
بازار

جبکہ اس تاریخی علاقے میں پرانی دیوار کے اندر واقع مارکیٹ کا باڈی گرمیوں میں جدہ کے سورج کی سخت گرمی سے متاثر نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی جگہ چھتریوں کو اس طرح تیار کیا گیا کہ ان سے آنے والوں کو گرمی محسوس نہیں ہوتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں