اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف اویو کوچاوی نے پیر کے روز اعتراف کیا کہ وہ گذشتہ 7 اکتوبر کے حملوں کی وجہ سے ہونے والی سکیورٹی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کے مطابق کوچاوی نے فوج سے مطالبہ کیا وہ ملک میں سیاسی تنازعات سے خود کو دور رکھے۔
اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے جنوری 2023ء تک اپنے عہدے پر فائز رہنے والے کوچاوی کے حوالے سے بھی کہا کہ "میں مسلسل اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ ہم مختلف طریقے سے کیا کر سکتے تھے"۔
سیاسی قیادت میں اختلافات پر تنقید
سابق اسرائیلی آرمی چیف اویو کوچاوی نے اسرائیلی سیاسی قیادت کے اندر موجود اختلافات پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا با اثر لوگ اسرائیل میں تقسیم پیدا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جس سے ان کے ملک کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔
براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ان کے حوالے سے کہا کہ "انتہا پسندانہ بحثیں بند کریں اور سب سے بڑھ کر فوج کو اس گفتگو سے باہر رکھیں۔ اسرائیلی فوج کو جیتنے دیں اور دشمن کو ایک اور موقع نہ دیں"۔
7 اکتوبر کا حملہ
قابل ذکر ہے کہ حماس اور فلسطینی دھڑوں نے 7 اکتوبر کو غزہ کے قریبی قصبوں اور شہروں پر حملے کیے تھے۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں غزہ کی پٹی پر جنگ شروع کر رکھی ہے۔
-
اسرائیلی کابینہ میں غزہ کے یرغمالیوں اور بجٹ کے حوالے سے شدید اختلافات
غزہ کی پٹی میں 100 سے زائد دنوں سے جاری جنگ کےبعد اسرائیلی حکومت میں غزہ میں ...
مشرق وسطی -
جنگ کے 101 دن،غزہ کے باشندوں کوبڑے فضائی حملے کا خطرہ لاحق
غزہ کی پٹی پراسرائیلی جنگ کے 101 ویں روز بھی توپ خانے سے گولہ باری کا سلسلہ تھم ...
مشرق وسطی -
ایران بحیرہ احمر سے بحیرہ روم تک بحرانوں کو ہوا دے رہا ہے: برطانیہ
برطانوی وزیر دفاع گریس شیپس نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کی افواج نے بحیرہ احمر میں ...
مشرق وسطی