ایرانی یونیورسٹی کے ڈرون پروگرام میں امریکی اوربرطانوی ماہرین کےتحقیقی تعاون کاانکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"انتہائی خطرناک" سمجھے جانے والے ایک عمل میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے ماہرین نے ایک ایرانی یونیورسٹی کے ساتھ ڈرون تحقیق میں تعاون کیا ہے جو بظاہر تہران کے حکام کے قریب سمجھی جاتی ہے۔

خطرے کی دریافت!

ایک سکورٹی ماہر نے "تعاون پر مبنی تحقیق" کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے ماہرین تعلیم کے درمیان ایک ایرانی یونیورسٹی کے ساتھ ڈرون پر تحقیق پر ہوئی تھی، جس میں براہ راست فوجی ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ ان ایپلی کیشنز پر عسکری مقاصد کے لیے عمل درآمد کیا جائے گا۔

’گارڈین کے مطابق‘ اسی تحقیق کو ممکنہ طور پر "انتہائی خطرناک" قرار دیا گیا ہے خاص طور پر چونکہ ایرانی ساختہ ڈرون یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں متعدد حملوں کے ذمہ دار ہیں اور ان کی ترقی کو تہران میں حکومت کی اولین ترجیح کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تاہم رپورٹ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ تحقیق نے کسی پابندی کی خلاف ورزی کی ہے یا کسی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، بلکہ اس نے مزید کہا کہ پچھلے سال شائع ہونے والی تحقیق انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس انجینئرز کی جانب سے کی گئی جس میں وائرلیس نیٹ ورکس اور مواصلاتی مراکز میں ڈرون کا استعمال جسے "بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں (UAVs)" پر تحقیق کی گئی تھی۔

’آئی پی وی ایم‘ میں حکومتی تحقیق کے ڈائریکٹر کونر ہیلی نے کہا کہ اس مقالے میں فوجی استعمال کے لیے پیش کی گئی ٹیکنالوجی کے براہ راست مضمرات ہیں۔ اس میں جب چینلزمخالف جیمنگ ڈیوائسز کونصب کرتا ہے تو یہ نئی کمیونیکیشن چینلز بنانے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس صلاحیت کا یوکرین میں ڈرون جنگ سے براہ راست تعلق بتایا جاتا ہے۔

جبکہ پولینڈ کی یونیورسٹی آف لوڈز میں بین الاقوامی اور سیاسی علوم کے پروفیسر رابرٹ چلڈا نے کہا کہ یہ تحقیق ممکنہ طور پر "بہت خطرناک" تھی۔

انہوں نے کہا کہ "کسی بھی یونیورسٹی کے لیے ان منصوبوں میں حصہ لینا اچھا خیال نہیں ہے، کیونکہ مواصلات یا دہرائے جانے والے سگنلز سے متعلق کوئی بھی نظام آسانی سے ملٹری اپلیکیشن کر سکتا ہے۔"

یہ مطالعہ یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن، سڈنی میں یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز، یونیورسٹی آف ہیوسٹن اور تہران میں شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے محققین نے مشترکہ طور پر لکھا ہے۔

شائع شدہ مطالعہ میں شامل فنڈنگ ایجنسیوں میں برطانیہ، یورپی یونین اور آسٹریلیا میں حکومتی حمایت یافتہ ریسرچ کونسلز شامل ہیں۔

"شریف یونیورسٹی" اور پابندیاں

قابل ذکر ہے کہ تہران کی شریف یونیورسٹی یورپی یونین اور برطانیہ کی طرف سے عائد کردہ مالی پابندیوں کی زد میں ہے اور امریکہ نے ادارے میں کام کرنے والے ایک اعلیٰ عہدیدار پر پابندیاں لگا رکھی ہے۔

ایرانی ماہرین یوکرین کی جنگ میں شامیوں کو ڈرون چلانے کی تربیت دے رہے ہیں۔

امریکہ میں قائم واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطاب دیگر معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے جس رفتار کے ساتھ اپنا ڈرون پروگرام تیار کیا ہے اس کی ایک وجہ شریف یونیورسٹی کی طرف سے فراہم کردہ تحقیقی معاونت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی ساختہ ڈرونز کی رینج اور درستگی انہیں شریف یونیورسٹی کے تیار کردہ جائروسکوپک نیوی گیشن ڈیوائسز سے لیس کرکے حاصل کی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ ایرانی ساختہ ڈرون پچھلے پانچ سالوں میں میدان جنگ میں ہر جگہ موجود ہیں جس کی وجہ سے ان میں سے اکثر میں جنگوں کی نوعیت میں تبدیلی آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں