عراقی نیشنل انٹیلی جنس سروس نےکہا ہے کہ وہ سرحدوں کے باہر ایک آپریشن میں داعش کے دو "خطرناک ترین لیڈروں" کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ جن دو ارکان کو گرفتار کیا گیا تھا وہ "عراق میں دہشت گردی کے سب سے گھناؤنے جرائم میں ملوث تھے اور انہیں ملک سے باہر گرفتار کر کے عراق لے جایا گیا‘‘۔
بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان میں سے ایک جنگجو کی شناخت عصام عبد علی سعیدان ہے کے نام سے کی گئی ہے جس کا عرفی نام "ابو زید" ہے اور وہ 2014 کے بعد فلوجہ میں داعش کی میڈیا سرگرمیوں کا ذمہ دار ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دوسرا بشیر عبدالعلی سعیدان ہے جس کا عرفی نام "ابو احمد اتصالات" ہے۔ وہ 2014 کے بعد فلوجہ میں "داعش‘‘ کی تمام دہشت گرد کارروائیوں کا ذمہ دار ہے اور وہ داعش کے مواصلات کو محفوظ اور خفیہ کرنے کا انچارج تھا"۔
کئی دن پہلے کاؤنٹر ٹیررازم سروس نے عراق میں داعش کے "مالی انتظامی اہلکار" کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔