حماس نے ہفتے کے روز کہا کہ حماس اور اسلامی جہاد اور پاپولر فرنٹ کی تحریکوں کے رہنماؤں نے ایک اجلاس کے دوران اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے سنجیدہ معاہدے تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حماس نے مزید کہا کہ اس ملاقات میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ، پاپولر فرنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمیل مزھر اور اسلامی جہاد کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد ھندی نے شرکت کی۔
ملاقات میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے، اسرائیلی فوج کے فوری اور مکمل انخلا اور قیدیوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تینوں تحریکوں کے رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے قومی رابطے کی ضرورت پر بھی بات چیت کی۔ حماس نے ہفتہ کو اعلان کیا تھا کہ اسے اپنی تجویز پر اسرائیل کا سرکاری جواب موصول ہوگیا ہے۔ حماس کی جانب سے یہ تجاویز مصر اور قطر کو 13 اپریل کو دی گئی تھیں۔
حماس کے رہنما خلیل الحیہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک حماس اسرائیل کی طرف سے آنے والی تجویز کا مطالعہ کرے گی اور مطالعہ مکمل ہونے پر اپنا جواب پیش کرے گی۔ قاہرہ نیوز چینل کے مطابق ہفتے کے روز مصر نے حماس کو فلسطینی پٹی میں جنگ بندی کے بدلے 20 سے 40 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کی تجویز پیش کی۔ نیوز چینل کے مطابق کچھ تحفظات کے باوجود امکان ہے کہ غزہ میں تحریک حماس اور اسرائیلی فریق کے درمیان آئندہ چند روز میں کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔