پیرس کی ایک اپیل کورٹ نے بدھ کے روز فیصلہ سنایا کہ شام کی خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں شام کے صدر بشار الاسد کے لیے فرانس کے جاری کردہ بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری درست ہیں اور برقرار ہیں۔
مدعیان کی نمائندگی کرنے والے وکلاء جین سلزر اور کلیمینس وٹ اور شکایت کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے اس فیصلے کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا۔
مئی میں فرانسیسی انسدادِ دہشت گردی کے استغاثہ نے پیرس کی اپیل کورٹ سے اسد کے وارنٹ گرفتاری ختم کرنے کا فیصلہ سنانے کی استدعا کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک حاضر سروس سربراہ کی حیثیت سے اسد کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔
وکلاء نے ایک بیان میں کہا، "یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی قومی عدالت نے تسلیم کیا کہ ایک حاضر سروس سربراہِ مملکت کا ذاتی استثنیٰ مطلق نہیں۔"
فرانسیسی عدالتی حکام نے گذشتہ نومبر میں الاسد؛ ان کے بھائی اور چوتھے آرمرڈ ڈویژن کے کمانڈر مہر الاسد؛ اور دو شامی جرنیلوں غسان عباس اور بسام الحسن کے لیے بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ ان پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام تھا۔
ان جرائم میں 2013 میں اس وقت کی حزبِ اختلاف کے زیرِ قبضہ دمشق کے مضافات میں کیمیائی حملہ بھی شامل ہے۔
-
توہین مذہب کے الزام پر قتل، ہجوم میں شامل 23 افراد گرفتار
پاکستانی صوبے خیبر پختونخواہ (کے پی) میں پولیس نے توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص ...
پاكستان -
موریتانیہ:شادیوں میں اسراف سے خاندان پریشان،عجیب رسموں میں دلہن کا سیاہ لباس بھی شامل
موسم گرما کی آمد، اسکول کی تعطیلات اور تارکین وطن کی واپسی کے ساتھ موریتانیہ میں ...
بين الاقوامى -
منشیات کے سمگلروں نے شام سے دراندازی کی: اردنی فوج کا انکشاف
دارالحکومت عمان کے اطراف میں دھماکہ خیز مواد کی دکانیں ملنے کے چند گھنٹے بعد اردنی ...
مشرق وسطی