فلسطینی تحریک حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے مجوزہ معاہدے کو قبول کرنے کے بارے میں اسرائیل میں گرما گرم بحث کے تناظر میں اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لپیڈ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تبادلے کے معاہدے کے بغیر ہی جنگ اپنے آخری مراحل میں پہنچ گئی ہے۔
مکمل ناکامی
ان کا کہنا تھا ’’کہ یہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔‘‘ یائر لپیڈ نے مزید کہا کہ جنوب میں پرسکون رہنے سے شمال میں سکون آئے گا اور یہ بہترین آپشن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو ایران پر اکیلے حملہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس مقصد کے لیے دنیا کو ساتھ ملانا چاہیے۔ اسی لیے اب جنگ کو روک دینا چاہیے۔
اپوزیشن رہنما نے وضاحت کی کہ سات اکتوبر کے واقعات کے حوالے سے سرکاری تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ابھی تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے تاخیر کرنے کے کسی بھی کھیل میں شامل نہیں ہوں گے۔
یائر کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ میں 9 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ ثالث ممالک ایک مرتبہ پھر آگے بڑھے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے کے کچھ حصوں کے لیے نئے سرے سے بات کی ہے۔
ویب سائٹ ’’axios‘‘ کے مطابق معاملے کی براہ راست معلومات رکھنے والے تین ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ بات فرقوں کو ختم کرنے اور ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کے حصے کے طور پر آئی ہے۔ یہ نئی کوشش، جس کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی، اسرائیلی جنگی کمیشن کی طرف سے منظور کردہ اور صدر بائیڈن کی طرف سے گذشتہ ماہ ایک تقریر میں پیش کردہ اسرائیلی تجویز پر مبنی ہے۔
تینوں ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ امریکہ کی طرف سے قطری اور مصری ثالثوں کے ساتھ کی جانے والی کوششیں تجویز کے آرٹیکل آٹھ پر مرکوز ہیں کیونکہ معاہدے کا یہ حصہ ان مذاکرات سے متعلق ہے جو اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والے ہیں۔ پہلا مرحلہ دوسرے مرحلے کے لیے صحیح حالات کا تعین کرنے کے لیے ہے۔ دوسرے مرحلے میں غزہ میں ایک پائیدار امن تک پہنچنا شامل ہے۔
تین مراحل
واضح رہے امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے کہا ہے کہ حماس نے امریکی تجویز پر اپنے ردعمل میں بہت سی ترامیم کی ہیں جو اس کی سابق پوزیشنوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بائیڈن انتظامیہ اب بھی تین مرحلے کے معاہدے پر زور دے رہی ہے جس کے نتیجے میں حماس کے زیر حراست باقی 120 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں پائیدار امن قائم ہو گا۔ غزہ کی وزارت صحت نے ہفتے کو کہا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں مزید 69 فلسطینیوں کو ہلاک کیا گیا اور ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 37824 ہوگئی ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے تجویز سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حماس کے ساتھ جزوی معاہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو غزہ میں یرغمال کچھ اسرائیلیوں کو کو رہا کرے گا اور اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں لڑائی جاری رکھنے کی اجازت دے گا۔ تاہم ایک دن بعد ثالثوں اور یرغمالیوں کے اہل خانہ کے دباؤ میں نیتن یاہو نے اپنے تبصروں کو درست کیا اور اس تجویز سے اپنی وابستگی کی تصدیق کی۔