حماس ٹوٹ رہی ہے، اس سے جنگ بندی کرنا حماقت ہوگی: سموٹریچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند یہودی جماعت کے سربراہ اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرچ نے ایک بار پھر اتحادی حکومت کو خبر دار کیا ہے کہ حماس سے معاہدہ کر کے جنگ بندی کرنا اس وقت بہت بڑی حماقت ہوگی۔

وہ اتحادی انتہاپسند جماعتوں کے ان رہنماؤں میں شامل وزیر ہیں جو حکومت کو غزہ میں فلسطینیوں کی مزید تباہی کے لیے مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ نیز صدر جوبائیڈن کے جنگ بندی منصوبے کے باوجود چاہتے ہیں کہ غزہ سے فلسطینی مزاحمتی تحریک کا مکمل خاتمہ کیے بغیر کوئی جنگ بندی یا معاہدہ قبول نہ کیا جائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دیے گئے اپنے بیان میں بذالیل سموٹریچ نے پیر کے روز کہا ' اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ اس وقت روکنا بہت بڑی غلطی ہو گی۔'

سموٹریچ نے یہ انتباہ اس وقت کیا ہے جب اسرائیلی حکام حماس کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے بارے میں ثالثوں کے ذریعے بات چیت کر رہے ہیں۔

انہوں نے ' ایکس' پر لکھا ہے 'حماس ٹوٹ رہی ہے اور اسرائیل سے جنگ بندی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ یہ وقت اس کی گردن دبانے کا ہے۔ نہ کہ جنگ بندی کرنے کا۔'

انہوں نے مزید کہا 'جب تک ہم دشمن کو کچل کر توڑ نہیں دیتے۔ جنگ بندی نہیں کرنی چاہیے ۔ حماس کو مکمل خاتمے سے پہلے پھر سے بحال اور منظم ہونے کا موقع دینا کہ وہ ہمارے ساتھ پھر لڑے۔ ایک نامعقول اور احمقانہ بات ہوگی۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں