اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند یہودی جماعت کے سربراہ اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرچ نے ایک بار پھر اتحادی حکومت کو خبر دار کیا ہے کہ حماس سے معاہدہ کر کے جنگ بندی کرنا اس وقت بہت بڑی حماقت ہوگی۔
وہ اتحادی انتہاپسند جماعتوں کے ان رہنماؤں میں شامل وزیر ہیں جو حکومت کو غزہ میں فلسطینیوں کی مزید تباہی کے لیے مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ نیز صدر جوبائیڈن کے جنگ بندی منصوبے کے باوجود چاہتے ہیں کہ غزہ سے فلسطینی مزاحمتی تحریک کا مکمل خاتمہ کیے بغیر کوئی جنگ بندی یا معاہدہ قبول نہ کیا جائے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دیے گئے اپنے بیان میں بذالیل سموٹریچ نے پیر کے روز کہا ' اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ اس وقت روکنا بہت بڑی غلطی ہو گی۔'
سموٹریچ نے یہ انتباہ اس وقت کیا ہے جب اسرائیلی حکام حماس کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے بارے میں ثالثوں کے ذریعے بات چیت کر رہے ہیں۔
انہوں نے ' ایکس' پر لکھا ہے 'حماس ٹوٹ رہی ہے اور اسرائیل سے جنگ بندی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ یہ وقت اس کی گردن دبانے کا ہے۔ نہ کہ جنگ بندی کرنے کا۔'
انہوں نے مزید کہا 'جب تک ہم دشمن کو کچل کر توڑ نہیں دیتے۔ جنگ بندی نہیں کرنی چاہیے ۔ حماس کو مکمل خاتمے سے پہلے پھر سے بحال اور منظم ہونے کا موقع دینا کہ وہ ہمارے ساتھ پھر لڑے۔ ایک نامعقول اور احمقانہ بات ہوگی۔'