فلسطینی رہنما برغوثی کے سابق اسرائیلی وزیر سے گلے ملنے کے بعد ہنگامہ

اچانک ملاقات ہوئی: مصطفی برغوثی نے وضاحت پیش کردی، متنازع بیانات پر بھی شدید تنقید جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی شخصیات کو اکٹھا کرنے والی کسی بھی میٹنگ میں شرکت سے انکار کرنے کے بعد فلسطینی سیاست دان مصطفیٰ برغوثی کے خلاف اس بڑے پیمانے پر غم و غصہ پھیل گیا جب ان کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں وہ اسرائیل کے سابق وزیر ’’شلومو بن عامی‘‘ سے گلے مل رہے اور کہ رہے ہیں کہ یہ میرے لیے بڑا اعزاز ہے کہ میں ’’شلومو بن عامی‘‘ کے ساتھ ہوں۔

ویڈیو پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہونے کے بعد سابق اسرائیلی وزیر شلومو بن عامی نے سامنے آکر اس کی وضاحت پیش کی ہے۔ وضاحت دیتے ہوئے برغوثی نے کہا کہ وہ فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والے پارلیمانی بلاکس کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے اٹلی گئے تھے اور وقت کی کمی کی وجہ سے انھیں تمام شرکاء کو جاننے کا موقع نہیں ملا تھا ۔ مجھے ان کی کی موجودگی کا اچانک پتہ چلا تھا۔

واضح رہے فلسطینیوں میں غم و غصہ صرف برغوثی کی جانب سے شلومو کو گلے لگانے تک محدود نہیں تھا بلکہ برغوثی کے بیانات پر بھی تھا۔ ان کا بیان سابقہ بیانات کے خلاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے قتل کے خلاف ہوں۔ آپ مجھے جانتے ہیں‘‘

برغوثی نے کہا "مجھے ان یہودی لوگوں کے ساتھ ہمدردی ہے جو ہولوکاسٹ اور یہود دشمنی کا شکار ہوئے۔" انہوں نے غزہ میں بین الاقوامی افواج کے داخلے پر زور دیا۔ انہوں نے اسرائیلیوں کے ساتھ رہنے کے لیے ایک ریاست کے قیام پر بھی زور دیا اور یہودی عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے یہ کہا کہ تاریخی فلسطین اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں پر مشتمل ہے۔ میں ایک ریاستی حل کو ترجیح دیتا ہوں جس میں عرب اور یہودی سب کے لیے مساوی حقوق ہوں۔ انہوں نے غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی افواج کو داخل کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر دنیا غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں ایک فلسطینی ریاست کی ضمانت دے تو حماس راضی ہو جائے گی۔

ان مناظر کے برغوثی کے خلاف بڑے پیمانے پر تنقید شروع ہوگئی اور برغوثی کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے ایک سمپوزیم جس میں شلومو بن عامی بھی موجود تھے میں شرکت کرنے کا اعتراف کیا اور ایک بیان جاری کیا۔ شلومو اسرائیل میں خارجہ اور داخلی سلامتی کے قلمدان سنبھال چکے ہیں۔

وضاحت دیتے ہوئے برغوثی نے کہا کہ وہ فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والے پارلیمانی بلاکس کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے اٹلی گئے تھے اور وقت کی کمی کی وجہ سے انھیں تمام شرکاء کو جاننے کا موقع نہیں ملا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں