شام میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری جنگ نے بہت سے باشندوں کو اپنی عادات اور طرز زندگی کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے، خاص طور پر جب سے اس خانہ جنگی کے معاشی اثرات نے ان کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو منفی طور پر متاثر کیا ہے شہریوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور کاروبار کے لیے شہری نئے طریقے تلاش کررہے ہیں۔ ایک دکاندار نے خواتین کو کرائے پر جوتے مہیا کرنے کی پیش کش کی ہے۔ یہ اسٹورحما شہر میں ہے جو فی الحال خواتین کو جوتے کرائے پر دینے کی آفر کررہا ہے۔
یہ آئیڈیا فیس بک سے ملا
یہ دکان محمود درویش نامی شخص کی ملکیت ہے۔ ان کی شوز شاپ حما کے مرکز میں واقع ہے۔ اس کے ایک طرف النجرین اسٹریٹ پر اور دوسری طرف ابن رشد روڈ واقع ہیں۔
درویش جو "ابو محمد" کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں کی عمر 52 سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ "خواتین کے جوتوں کے کرائے کی دکان کھولنے کا خیال فیس بک سے آیا"۔
انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سےبات کرتے ہوئے کہاکہ "مجھے خواتین کے جوتوں کے کرایہ پر لینے کی دکان کھولنے کا خیال اس وقت آیا جب مجھے فیس بک پر ایک خاتون کی طرف سے ایک ایسی دکان کے بارے میں ایک پوسٹ ملی جہاں سے وہ کسی سماجی موقع کے لیے جوتے کرایہ پر لے سکتی ہے"۔
قیمتوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ابو محمد جو ہر روز اپنی دکان کا دروازہ کھولتے ہیں نے مزید کہا کہ "ہم مناسب قیمتوں پر جوتے کرایہ پر دیتے ہیں۔ وہ حلب اور دمشق گورنریوں سے جوتے خریدتے ہیں، کیونکہ یہ دونوں شہر اپنی بے عیب کاریگری کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ خوبصورت ماڈل کےدیدہ زیب جوتےخواتین کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
ابو محمد کی دکان پر جوتوں کی قیمتیں دو لاکھ شامی پاؤنڈز سے ساڑھے تین لاکھ شامی پاؤنڈز کے درمیان ہیں، جو کہ 12 سے 24 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ تاہم یہ قیمت فروخت ہے۔ کرائے کی قیمت الگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرائے پر دیئے جانے والے جوتے کی قیمت اس کی اصل قیمت کے حساب سے ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ"کرائے کی کم سے کم قیمت 25 ہزار لیرا سے پچیس ہزار لیرہ ہے، امریکی کرنسی میں یہ رقم دو سے ساڑھے تین ڈالر بنتی ہے۔ اس طرح یہ ہرخاتون کی پہنچ میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا پروجیکٹ خواتین کو جوتے خریدنے کے لیے کتنی رقم ادا کرنی چاہیے۔اس کے بارے میں زیادہ سوچے بغیر جوتے کرائے پر لینے اور پارٹیوں میں جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
حما گورنری میں پچاس سالہ شخص کی دکان بہت مشہور ہے، کیونکہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی شاپ ہے۔ شام کو درپیش معاشی بحران کی وجہ سے اس کی بہت زیادہ مانگ ہے۔
-
2024 پیرس اولمپکس میں گرین مشن میں شامل سعودی تیراک مشاعل العاید سے ملیے
سعودی عرب کی خاتون تیراک مشاعل العاید 2024ء پیرس اولمپکس میں سعودی وفد میں 200 ...
مشرق وسطی -
کے ایس ریلیف کی طرف سے شام اور سوڈان میں ہزاروں افراد کو ضروری امداد کی فراہمی
امدادی منصوبے کمزور طبقات کے لیے سعودی عرب کے عزم کے عکاس ہیں
بين الاقوامى -
تُرکیہ میں شامی نوجوان پر نسل پرستانہ حملہ،حالت تشویشناک
ترکیہ میں غیر ملکیوں کو کثرت سے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ عرب باشندوں، ...
بين الاقوامى