یمن میں منگل کے روز حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان صلح ہو گئی ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بدلے کے اقدامات سے الگ ہونے اور مل کر یمنی دفاع کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے اس بڑی پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔
یمن میں کئی سال تک رہنے والی خانہ جنگی پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔ منگل کے روز اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہانز گرونڈ برگ نے اس معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں متحارب فریق ملک مالیاتی اداروں کے کنٹرول کرنے کے لیے باہم تناؤ میں تھے۔
بدھ کے روز سعودی عرب نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے' ہم امن اور سلامتی کے حصول کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ نیز امید کرتے ہیں کہ ایک جامع سیاسی حل کی طرف بھی فریقین بڑھ سکیں گے۔'
مملکت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے ' اس معاہدے کے نتیجے میں دہائیوں سے جاری تصادم کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔'
اس موقع پر اقوام متحدہ کے نمائندے نے اس پیش رفت کا 'سہرا سعودی عرب کے سر رکھا کہ مملکت نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ نمائندے نے جنگ اور تصادم کے خاتمے کو جزیرہ نما عرب میں ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔
واضح رہے یمنی حوثیوں اور حکومت نے دسمبر میں اقوام متحدہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔ نیز ایک جامع سیاسی حل کی طرف پیش رفت کریں گے۔ تاہم حوثیوں کے بحیرہ احمرمیں اسرائیل ، امریکہ اور برطانیہ وغیرہ پر حملوں نے ان کوششوں کو عملاً معطل کر دیا تھا۔
منگل کے اس معاہدے کی خبر اس روز اطلاع سامنے ائی ہے الحدیدہ اسرائیلی حملے نے میڈیا کو شہ سرخیاں دیں۔ اور حوثیوں نے بھی اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔