اردن، ایران یا اسرائیل کے لیے میدان جنگ نہیں بنے گا: وزیرِ خارجہ اردن کا واضح بیان
انہوں نے ٓمملکت اور اپنے شہریوں کے تحفظ کو مقدم قرار دیا
اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن صفدی نے ہفتے کے روز کہا کہ اردن کی مملکت ایران یا اسرائیل کے لیے میدان جنگ نہیں بنے گی۔ یہ خطہ گذشتہ ہفتے حماس اور حزب اللہ کے سینیئر اراکین کی ہلاکت کے بعد تہران اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کی ممکنہ نئی لہر کے لیے تیار ہے۔
اردنی وزیرِ خارجہ نے العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "ہم ایران یا اسرائیل کے لیے میدان جنگ نہیں بنیں گے۔ ہم نے ایرانیوں اور اسرائیلیوں کو مطلع کر دیا ہے کہ ہم کسی کو بھی اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے اور اپنے شہریوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔"
نیز انہوں نے کہا، "ہم اپنی فضائی حدود سے گذرنے والی کسی بھی چیز کو روکیں گے یا اسے اپنے یا اپنے شہریوں کے لیے خطرہ سمجھیں گے۔"
ایران اور اسرائیل کے درمیان واقع اردن نے اپریل میں کہا تھا کہ اس نے اڑنے والی اشیاء کو روکا جو اس کی فضائی حدود میں داخل ہوئی تھیں۔ اس وقت تہران نے اپنی نوعیت کے پہلے براہِ راست جوابی حملے میں اسرائیل پر دھماکہ خیز ڈرون اور میزائل داغے تھے۔
یہ حملہ جو دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر مشتبہ اسرائیلی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا، اس کے بعد اردنی، عراقی اور ترک حکام نے کہا کہ ایران نے انہیں اپنی کارروائی کے بارے میں کچھ ابتدائی وارننگ فراہم کی تھی۔
31 جولائی کو تہران میں ایران کے حمایت یافتہ فلسطینی گروپ حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد سے ایران نے بارہا اسرائیل کو "سزا" دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایران اور حماس نے اس قتل کا الزام اسرائیل پر لگایا ہے۔
اسرائیل نے اس قتل کی ذمہ داری قبول یا اس کی تردید نہیں کی ہے جس سے غزہ جنگ کے ایک وسیع تر تنازعے کی شکل اختیار کر لینے کے خدشات کو تقویت ملی ہے۔
ہنیہ کے قتل سے چند گھنٹے قبل بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت بھی ان خدشات کـی وجہ بنی۔