اسرائیل اپنے حملوں میں حزب اللہ کے اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنانے لگا

حزب اللہ کے میزائل یونٹ کے اہم رہنما حسین علی حسین کو ہلاک کردیا گیا ہے: اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پیر کو ایک اسرائیلی حملے نے مشرقی لبنان کی وادی البقاع میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا۔ البقاع میں ضلع بعلبک کے قصبوں کو پیر کی شام تین اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے میزائل یونٹ کے اہم رہنما حسین علی حسین کو قتل کردینے کا اعلان کردیا۔

لبنان میں صحت عامہ کی وزارت کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے البقاع پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں ایک اپ ڈیٹ جاری کیا اور بتایا کہ زخمیوں کی تعداد نو افراد تک پہنچ گئی۔ ایک شامی خاتون کو ایمرجنسی روم میں داخل کیا گیا۔ چھ لبنانی شہری، ایک پانچ سال کی شامی لڑکی اور ایک 15 سال کی شامی لڑکی بھی زخمی ہوگئی ہے۔ ہنگامی حالات میں ان کا بھی علاج کیا گیا۔

ایک اور اسرائیلی حملہ علاقے ’’المنصوری‘‘ پر کیا گیا۔ اس حملے میں 2 فلسطینی خواتین زخمی ہوگئیں ۔ دونوں کی عمریں 17 اور 18 سال تھیں۔ انہیں علاج کے لیے لبنانی اطالوی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ یہ حملہ پیر کے اوائل میں ایک اسرائیلی فوجی اور حزب اللہ کے دو جنگجوؤں کے مارے جانے کے بعد کیا گیا۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب یعارہ بستی کی ایک عمارت کو براہ راست میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس میں ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت اور متعدد شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لبنان سے لانچ کیا گیا ڈرون مغربی الجلیل کے ایک اسرائیلی قصبے میں پھٹ گیا ۔ یعارہ قصبے میں ڈرون دھماکے کے نتیجے میں لگنے والی آگ میں اسرائیلی زخمی ہوئے۔

لبنان کی وزارت صحت نے پہلے بتایا تھا کہ حولا قصبے پر اسرائیلی فوج کے حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں حزب اللہ نے اپنے دو ارکان کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے پیر کے روز حزب اللہ کے جنگجوؤں پر حولا کے علاقے میں بمباری کی۔

مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کی روشنی میں لبنان میں اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر عمران رضا نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ تقریباً 150,000 لوگ اب بھی ایسے علاقوں اور دیہاتوں میں رہ رہے ہیں جہاں روزانہ توپخانے کی گولہ باری اور فضائی بمباری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں لوگ 2006 کی جنگ کی تکلیف دہ وقت کو یاد کر رہے ہیں۔ یہ لوگ حالیہ خطرات میں ممکنہ اضافے سے خوف زدہ ہیں۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق اکتوبر سے لے کر اب تک جنوبی لبنان سے ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق شمالی اسرائیل میں لگ بھگ ایک لاکھ اسرائیلی بے گھر ہوئے ہیں۔

لبنانی حکام اور پارٹی اور دیگر گروپوں کی موت کے اعداد و شمار پر مبنی ایجنسی فرانس پریس کی گنتی کے مطابق سرحد پار سے ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں لبنان میں کم از کم 584 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں حزب اللہ کے 377 جنگجو اور کم از کم 128 عام شہری شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اب تک کم از کم 23 فوجیوں اور 26 شہریوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ ان میں مقبوضہ شام کے گولان میں ہلاک ہونے والے 12 فوجی بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں