ممکہ ایرانی حملہ، دور یا قریب کے کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں: نیتن یاہو
ایران کی جانب سے اس بات کا اعادہ کرنے کے بعد کہ جوابی کارروائی ناگزیر ہے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ دفاع میں کسی بھی صورت حال کےحوالے سے اور قریبی اور دور کے کسی بھی طرح کے خطرات والے حملے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے رمات ڈیوڈ ایئر بیس میں کہا کہ میں یہاں ایئر فورس بیس پر ہوں تاکہ قریبی اور دور دراز کے خطرات کے خلاف اپنی تیاریوں پر کڑی نظر رکھ سکوں۔ دفاع کرنا ہو یا حملہ کرنا ہو ہم کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں۔
جنگ مزید پھیل سکتی
اسرائیلی انٹیلی جنس کے سربراہ شلومی بائنڈر نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک طویل اور مشکل جنگ میں ہے جو مزید پھیل سکتی ہے۔ ہم لبنان کے ساتھ جنگ کی توسیع کے لیے تیاری جاری رکھیں گے۔ ہم حماس کے زیر حراست 109 یرغمالیوں کی بازیابی تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
جواب دیا جائے گا
اسرائیلی وزیر اعظم کے جواب سے قبل بدھ کو ایران نے تصدیق کی تھی کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کا جواب دیا جائے گا چاہے اس میں کافی وقت بھی لگے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ردعمل کے تحت اسرائیل کو سزا دی جائے گی اور ایران میں مستقبل میں ہونے والے کسی بھی حملے کا دفاع کیا جائے گا۔ وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا تاہم غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات پر کسی ممکنہ منفی اثر سے بچنے کے لیے ردعمل کا بغور مطالعہ بھی کیا جانا چاہیے۔
مشن نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی ردعمل کے وقت، حالات اور طریقہ کار کو احتیاط سے مربوط کیا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ زیادہ سے زیادہ حیران کن وقت میں پیش آئے۔
تباہ کن نتائج
امریکی حکام نے پہلے اطلاع دی تھی کہ تہران غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کا موقع فراہم کرنے کے لیے تل ابیب پر اپنا ردعمل ملتوی کر سکتا ہے۔ مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود بین الاقوامی اور علاقائی ثالثوں کے ذریعے جنگ بندی مذاکرات جاری ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے گزشتہ ہفتے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کے ملک نے ایرانی فریق کو اسرائیل کے خلاف بڑا میزائل حملہ کرنے سے خبردار کیا تھا کیونکہ اس کے نتائج خاص طور پر ایران کے لیے بہت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ دریں اثنا امریکی صدر جو بائیڈن نے مشورہ دیا تھا کہ تباہ شدہ فلسطینی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے سے اسرائیل کے خلاف متوقع ایرانی حملے کو ملتوی کر دیا جائے گا۔
یاد رہے 31 جولائی کو تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو قتل کیے جانے کے بعد ایران اور اسرائیل میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔