اسرائیلی وزیر دفاع نے بن گویر کو اسرائیل کے لیے ’سکیورٹی ریسک‘ قرار دیا
شدت پسند اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر کا حزب اللہ پر حملے کا مطالبہ
اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نےداخلی خفیہ دارے’شین بیت‘ کے سربراہ رونن بار کی جانب سے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر کو برطرف کرنے کی درخواست کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ان کے اقدامات سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے"۔
دوسری طرف بن گویر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ’ وزیر دفاع مجھ پر غصہ نکالنے کے بجائے حزب اللہ پرحملہ کریں‘۔
מול המעשים חסרי האחריות של השר בן גביר המסכנים את הביטחון הלאומי של מדינת ישראל ויוצרים פילוג פנימי בעם, ראש שירות הביטחון הכללי ואנשיו מבצעים את תפקידם ומתריעים מפני ההשלכות החמורות של מעשים אלו.
— יואב גלנט - Yoav Gallant (@yoavgallant) August 23, 2024
گیلنٹ نے مائیکرو بلاگنگ ویب ساٹ’ٰایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے لکھا کہ "وزیر ایتمار بن گویر کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات ریاست اسرائیل کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور ملک میں اندرونی تقسیم پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ جنرل سکیورٹی سروس کے سربراہ اور ان کے اراکین اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور ان اقدامات کے سنگین نتائج سے خبردار کر رہے ہیں۔
قبل ازیں بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے گنبد صخرہ کے موجودہ ’اسٹیٹس کو‘ کو ختم کرنےکا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ حیثیت کی مخالفت کی تھی۔ جس پر رونن بار تنقید کی اور متنبہ کیا کہ یہ اس طرح کے بیانات زیادہ خونریزی کا باعث بنے گےاور اسرائیل کی ریاست کا چہرہ ناقابل شناخت حد تک بدل جائے گا"۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے"۔
انہوں نےکہا کہ ہم بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ حکومت کے اہم اہداف میں سے ایک ہونا چاہیے۔ یہ رجحان خطے کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
دوسری جانب بن گویر نے رونن بار کی برطرفی کا مطالبہ کیا کیونکہ اس نے نے ریاست کی سلامتی اور وجود کو خطرے میں ڈالنے والی "یہودی دہشت گردی" کے خلاف خبردار کیا تھا۔