سعودی عرب کے جزیرہ تاروت کی ایک صحابی رسول ﷺ کے ساتھ کیا نسبت ہے؟

گئے وقتوں میں قطیف اور جزیرہ تاروت کے درمیان لوگ سمندری سفر کیسے کرتے تھے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

جب مشرقی سعودی عرب میں تاروت جزیرہ اور اس کی قطیف گورنری کو ملانے والے "سیکشن" میں پانی کی سطح "جوار" کے رجحان کی وجہ سے کم ہو جاتی ہے تو لوگ پیدل یا گھوڑوں گدھوں کے ذریعے "کارواں" کی شکل میں اسے عبور کرتے۔ 1960ء کی دہائی میں سمندری پل کے قیام سے پہلے ان کے درمیان ہلکے سامان کی نقل وحمل کے لیے اس راستے سے لوگوں کی آمد ورفت کا معمول ہوتا تھا۔

قطیف گورنری کے لوگوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں ’تاروت‘ جزیرہ پر سنابس کے کچھ لوگوں کو دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے 1380ھ 1961ء سے شروع ہونے والی کراسنگ کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے عبورنہیں کیا۔ اس کے بعد قطیف اور تاروت کے درمیان پل کی تعمیر کے بعد لوگوں کی آمد رفت ایک رواج بن گیا ہے۔ تاہم پرانے دور کی ایک بات آج بھی تازہ ہے کیونکہ لوگ آج بھی اپنے باپ داداد کی طرح گدھوں پر سفر کرتے ہیں۔

سعودی محقق اور مؤرخ عبد الرسول الغریافی نے کہا کہ یہ رجحان موجودہ وقت میں ایک تفریحی سرگرمی میں بدل گیا ہے۔ خاص طور پر سنابس کے مشرق میں جو کہ جزیرے کا مشرقی حصہ ہے کے لوگ اس رواج کے عادی ہو گئے ہیں۔ یہ مختصر تفریحی دوروں میں ہے جس میں بچے بھی شرکت کرتے ہیں۔ اسے قطیف کے ورثے میں "القاری" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک گدھے کی طرف سے کھینچی جانے والی گاڑی ہے۔ کیونکہ یہ سمندر میں تین یا چار مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ جن میں سے تاروت جزیرہ اور قطیف کے درمیان ایک مخصوص کراسنگ ہے جس میں تاروت سے قطیف اور دوسری قطیف سے تروت اور دارین تک ہے۔

شوریٰ کونسل کے رکن ڈاکٹر نبیہ الابراہیم نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے وائرل ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ"اس میں دیکھے جانے والے کچھ افراد جو کچھ کر رہے ہیں وہ سمندری نقل و حمل کے عمل میں اس کردار کی نقل کرنے کا ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ اگرچہ گدھوں کے گرنے اور ڈوبنے کے خطرات سے حفاظت کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بعض اوقات سمندر کی لہریں بلند ہوجاتی ہیں اور بچوں کےلیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

انہوں نے سعودی ٹورازم اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تجربے کی نگرانی کرے تاکہ مشرقی صوبے کی ترقیاتی اتھارٹی، مشرقی صوبے کے سیکرٹریٹ اور ہیریٹیج اتھارٹی کے تعاون سے نجی شعبے کے ذریعے پرکشش سیاحتی سرگرمیاں پیدا کرنے کے قومی منصوبے کا مطالعہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بعض تاریخی مآخذ میں یہ روایت ملیتی ہے کہ جب بزرگ صحابی علاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ نے اپنے قافلے کے ساتھ الزارہ جسے آج کل ’العوامیہ‘ کہا جاتا ہے سے جزیرہ دارین کی طرف جاتے ہوئے اسے عبور کیا۔ تاریخ کے مطابق یہ واقعہ12ھ کوبتایا جاتا ہے۔

محقق الغریافی کا کہنا ہے کہ یہ کراسنگ جو 6 کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اسے دو گھنٹے سے کم وقت میں عبور کیا جا سکتا ہے۔ وہاں سے سفر ایک مخصوص وقت پر ہوتا ہے۔خاص طور پر کشتیوں کے مالکان کو معلوم ہوتا ہے۔ مقامی طور پر اسے ’الفبر‘ یا الثبر‘کہا جاتا ہے۔ جب سمندر میں پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو اس وقت لوگ وہاں کا سفر کرتے ہیں۔ اسے مقامی طور پر (الساقی) کہا جاتا ہے۔ تاروت سے قطیف کا سفر پیدل بھی کیا جاتا ہے۔

سائنسی طور پر کچھ ساحلوں پر مدو جزر کی دو تقریباً برابر چوٹیاں اور دو تہیں روزانہ آتی ہیں۔ اسے نیم روزانہ جوار کہا جاتا ہے۔ کچھ دیگر مقامات پر جوار کی صرف ایک چوٹی ہر روز واقع ہوتی ہے۔ اسے روزانہ کی لہر کہا جاتا ہے۔ کچھ سائٹس پر ایک دن میں دو مختلف ہائی ٹائیڈز اور لو ٹائیڈز ہوتے ہیں۔ دوسری بار ان میں ہر روز ایک اونچی لہر آتی ہے۔

الغریافی نے مزید کہا کہ اس سرگرمی نے لوگوں کے لیے مقامی آمدنی کے دروازے کھولے ، خاص طور پر سیاحت کی تحریک کے فعال ہونے کے بعد یہاں پر سیروسیاحت میں اضافہ ہوا ہے۔ 1940 کی دہائی کے اوائل میں تیل دریافت کے بعد سیاحوں، آثار قدیمہ کے ماہرین اور غیر ملکیوں میں آمد ورفت کے بعد تاروت جزیرے کی سیاحت میں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں