سعودی عرب میں خاندانی مشاورت کی حکمت عملی کے ساتویں سیشن کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے وزیر انجینیر احمد الراجحی نے فیملی فورم 2024ء کی افتتاحی تقریب کو سپانسر کرتے ہوئے اس کے ساتویں سیشن کا افتتاح کیا ہے۔ دو روزہ سیشن کا اہتمام ’فیملی افیئر کونسل‘نے کیا ہے۔ اس بار کے سیشن کے لیے "خاندان اور خاندانی مشاورت: بدلتی ہوئی دنیا میں اندر سے طاقت کی بنیاد"۔ کا عنوان دیا گیا ہے۔

خاندانی رہ نمائی کی حکمت عملی میں 12 سے زیادہ اقدامات شامل ہیں جن میں خاندان اور کمیونٹی کی تمام ضروریات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ خاندانی رہ نمائی کے شعبے کو بااختیار بنانے اوران کی کارکردگی کو بہتر بنانے، انہیں اہل بنانے اور ان کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو فروغ دینے اور معاشرے کے فہم بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ خاندانی رہ نمائی اور خاندانی تعلقات کو بہتر بنانے، تنازعات کو حل کرنے اور خاندانی استحکام کو تقویت دینے میں سوسائٹی پر مثبت اثرات مرتب کرے گی۔ اس سے خاندانوں کی بہبود اور ترقی کے لیے وضع کردہ ضوابط اور پروگرامات کو عملی شکل دینے میں مدد ملے گی۔

خاندانی رہ نمائی کے نئے سیشن میں فیملیز کو فراہم کی جانے والی خاندانی خدمات کے دائرہ کارکو بڑھانے، جغرافیائی دائرے کو وسعت دینےاور مملکت کے تمام خطوں میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں کو خدمات فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ وزارت برائے سماجی بہبود نے 2024ء میں 500 پریکٹیشنرز کو لائسنس جاری کرنے کے لیے کام کرے گی اور 2030ء کےآخر تک 4,000 پریکٹیشنرز کو فیملی کونسلنگ پریکٹیشنرز کے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

خاندانی رہ نمائی کی حکمت عملی کے ذریعے، انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت سماجی خدمات کے اثرات اور کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے تیزی کے ساتھ سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے حصول کی طرف گامزن ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ خاندانی رہ نمائی کی حکمت عملی کئی طریقوں سے عمل کررہی ہے۔ ان مراحل میں فیلڈ میں بین الاقوامی اور علاقائی تجربات کا متعدد معیاریات کے ساتھ موازنہ کرنا اور 12 سے زیادہ ورکشاپس کا انعقاد شامل ہے۔ وزارت کے ساتھ اس شعبے میں 13 سرکاری اور نجی ادارے بھی کام کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں